حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 47
حقائق الفرقان ۴۷ سُورَةُ طَهُ قبر اس مکان کا نام ہے جہاں یہ نفس بعد الحیات اپنے اعمال کے مطابق رہتا ہے۔ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَاقْبَرَة (عبس: (۲۲) آیت سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ وہ کون سی قبر ہے جس میں میت کو حسب اعمال آرام یا دکھ پہونچتا ہے۔ پس اس قسم کے اعتراض کہ ہمیں قبر میں بچھو، سانپ کاٹنے والے اور آگ نظر نہیں آتی و غیر ھا حل ہو جاتے ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۷) انیس سو سال سے حضرت عیسی ان لوگوں کے زعم میں آسمان پر رہتے ہیں اور چند سالوں کے لئے یہاں آئے تو ان کا مستقر تو آسمان ہی ٹھہرا حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔ وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (البقرة: ۳۷) ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۱۱ ء صفحه (۴) ۵۷ تا ۵۹۔ وَ لَقَدْ اَرَيْنَهُ ايْتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ آبي - قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَمُوسى - فَلَنَا تِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِثْلِهِ فَاجْعَلُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدَ الَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا اَنْتَ مَكَانًا سُوَى ۔ - ترجمہ ۔ اور ہم نے فرعون کو دکھا دیں اپنی سب نشانیاں پھر اُس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔ کہنے لگا کیا اس واسطے تو ہمارے یہاں آیا کہ ہمیں اپنے ملک سے نکال دے اپنی دلر با باتوں سے اے موسیٰ ! تو ہم بھی ضرور تیرے سامنے ایسا ہی دھو کہ لائیں گے تو تو مقرر کر دے زر کر دے ہمارے اور اپنے میں ایک وعدہ جس کا خلاف نہ ہم کریں نہ تو کسی صاف میدان میں ۔ وعده تفسیر ۔ فَكَذَّبَ - تکذیب رسل بڑا بھاری جرم ہے فرماتا ہے۔ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَة (العنكبوت: ٦٩ ) ۔ و آبی ۔ انکار بہت سے خطرناک جرموں کی اصل ہے۔ ابلیس کی نسبت فرمایا۔ آبی و استكبر (البقرۃ: ۳۵) انسان جب تکذیب کے بعد بدظنی میں مبتلا ہوتا ہے تو انکار پر کمر باندھتا ہے۔ پرورش لے پھر اس کو اللہ نے مارا اور اسی نے اس کو گاڑا ۔ ۲ اور خالص ملک میں تمہیں رہنا۔ سے اس سے زیادہ ظالم کون جو جھوٹا بہتان باندھے اللہ پر یا جھٹلائے حق کو جب وہ اس کے پاس پہنچے۔ (ابلیس نے جو کافر تھا ) آدم کا انکار کر دیا اور اسے اپنے سامنے ہیچ سمجھا۔