حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 481
حقائق الفرقان لد ۱۷ سُورَةُ سَبَا وو یہاں وہ پیشین گوئی جو یسعیا باب ۲۱ آیت ۱۳ سے شروع ہوتی ہے۔ پوری ہوئی ۔ ” عرب کی بابت الہامی کلام ۔ عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے ۔ اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرتے آؤ۔ اے تیما کی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔ کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھنچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔ کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔ اور تیراندازوں کی جو باقی رہی ۔ قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خدا وند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔ اس لڑائی میں قیدار کے اکثر سردار مارے گئے اور وہ کامیابی جو سچائی کا معیار ہوتی ہے ظاہر ہوگئی اور یہ بدر کی فتح اسلام کے حق میں ایسی ہی اکسیر اعظم ہوئی جیسی جنگ ملوین برج کی فتح دین عیسوی کے حق میں ۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۰۳، ۲۰۴) ۳۲- وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهَذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضِ الْقَولَ ، يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْ لَا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ - ترجمہ ۔ کافر کہنے لگے کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے اس قرآن پر اور نہ اس کتاب پر جو اس کے آگے ہے ( یعنی تو ریت شریف پر ) اور تو دیکھے تو عجب کرے ظالموں کو جب کھڑے کئے جائیں گے اپنے رب کے حضور تو وہ ایک دوسرے کی طرف بات کو لوٹائیں گے ۔ اور کمزور لوگ کہیں گے زور آور متکبروں سے تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے ۔ تفسیر - کن تو من کا فرشوخی کی راہ سے یہ کہتے ہیں ۔ برہموا نہی میں سے ہیں کیونکہ تمام کتب الہیہ کا اجماعی مسئلہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ دروغ مصلحت آمیز لے یہ لڑائی ۳۱۲ میں قسطنطین اعظم اور میگزیشن قیصر میں ہوئی تھی اور قیصر مذکور کو جو اس میں شکست ہوئی اس کو عیسائی فتح مبین اپنے دین کی سمجھتے ہیں ۔