حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 39

حقائق الفرقان ۳۹ سُورَةُ طُهُ ١٦ - إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ اخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى - ترجمہ - انجام کار کی گھڑی یا قیامت ضرور آنے والی ہے ۔ قریب ہے کہ میں اس کو ظاہر کروں تا کہ ہر نفس اپنی کوشش کا اجر پا جاوے۔ تفسیر۔ تحقیق وہ گھڑی آنے والی ہے۔ قریب ہے۔ میں اسے ظاہر کر دوں ۔ تو کہ ہر جی اپنے کئے کا بدلہ پائے ۔ یہ معنے بالکل صاف اور صحیح ہیں۔ ان میں کسی قسم کا خفا نہیں ہے۔ اور نہ ان معنوں پر کچھ بدلہ پائے۔ یعنی بالکل صف اور میچ ہیں۔ ان میں سید اعتراض ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی کہے اُخْفِيهَا کا مادہ ہے خفی اس کے معنے ظاہر کروں کیسے ہوئے تو اُسے زبان عرب میں غور کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ خفی کا لفظ متضاد معانی رکھتا ہے۔ اب خفی بمعنی ظاہر ہوا کا محاورہ سنو ۔ خَفِي الْبَرْقُ خَفْوًا وَخَفَوًا أَى لَمَعَ یعنی خَفِي الْبَرْقُ کے معنے ہیں بجلی چمکی ۔ خَفِی الشيء أي ظهر یعنی چیز ظاہر ہوئی ۔ خَفِي الْمَطَرُ النَّافِقًا یعنی مینہ نے چوہے کے چھپے بل کو ظاہر کر دیا۔ اگر خفی بمعنی چھپا کے لیں۔ تو بھی وہی ترجمہ جو میں نے کیا ہے صحیح ہے کیونکہ اخفی مزید علیہ مجر" ومادہ خفی کا ہے۔ اور اخفی افعال کا باب ہے جو کبھی سلب کے معنی دیتا ہے۔ یعنی مادہ مجرد کے معنی کو دور کر دینا۔ دیکھو اشکنیت میں نے شکوہ دور کیا۔ اشکلت میں نے مشکل کو دور کیا۔ طاقَ يَطِيقُ مُجردا معنی برداشت کرتا ہے۔ اور اطاق يُطِيقُ مَزِيدًا بمعنی برداشت نہیں کرتا۔ اسی طرح خفی کے معنے ہیں ۔ چھپا۔ اخفی ماضی کے معنی ہیں ظاہر کیا۔ اور اخفی مضارع کے معنی ہیں ظاہر کروں گا۔ وو ایک اور دلیل جو نہایت صفائی سے اس ترجمے کی صحت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے آگاد کے معنے ہیں ” میں ارادہ کرتا ہوں“ قرآن میں دوسری جگہ بھی یہ محاورہ موجود ہے كَذلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ (یوسف: ۷۷) یعنی ایسا ہی ہم نے یوسف کے لئے ارادہ کیا۔ اور عرب کا محاورہ ہے لا أَفْعَلُ وَ لا آکاد۔ نہ میں کرتا ہوں اور نہ میرا ارادہ ہے پس آكَادُ اخْفِيهَا کا ترجمہ ہوا۔ میں ارادہ کرتا ہوں اُسے ظاہر کروں۔ فصل الخطاب لمقدمه اهل الكتاب حصہ اول ۔ الكتاب حصہ اول - صفحہ ۱۳۷ ۱۳۸ ) آكَادُ اخْفِيهَا ۔ ایک پادری نے اخفی کے معنے چھپانے کے لے کر ایک مولوی پر اعتراض کیا