حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 468
حقائق الفرقان ۴۶۸ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ مقدم کرتے ہیں۔ لیکن جب تقوی ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے۔ بات یہ ہے جو اللہ رسول کا مطیع ہوتا ہے وہ بڑا کامیاب ہو جاتا ہے اس لئے یہ بات ہر ایک کو مد نظر رکھنی چاہیے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۳ ) ایک بار وزیر آباد کے ریلوے سٹیشن پر ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن کیونکر پڑھیں ۔ صرف و نحو تو آتی نہیں۔ میں نے کہا صرف ونحو کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن شریف میں قال پہلے سے موجود ہے بنانا نہیں پڑتا پھر صرف کی کیا ضرورت ہے رہی نحو۔ قرآن شریف میں زیر یں زبریں پڑتا پھر کیا ہے ہی پہلے سے موجود ہیں ۔ پھر اس نے گھبرا کر کہا کہ اچھا معانی بدیع کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ وہ امر زائد ہے۔ جب وہ اس سے بھی رکا تو کہنے لگا کہ کم از کم لغت کی تو ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ اگر تم اپنی ہی بولی پر ذرا غور کر کے قرآن شریف پڑھو تو لغت کی بھی بڑی ضرورت نہیں ہے تم کوئی آیت قرآن شریف کی پڑھو۔ میں تمہیں ترجمہ کر کے دکھا دیتا ہوں ۔ خدا کی قدرت ہے اس نے یہ آیت پڑھی قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۔ میں نے کہا۔ کیسی صاف بات ہے گلا اوگل سدھی ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷ ) ۷۳ إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا - ترجمہ ۔ ہم نے پیش کیا امانت کو آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کیا خیانت کرنے سے اور ڈر گئے اس سے ( یعنی خیانت سے ) اور خیانت کی اس کی انسان نے اس لئے کہ وہ بڑا بے جا کام کرنے والا بڑا نادان تھا۔ تفسير - الأمانة - احكام فَابَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا - انکار کیا اس سے کہ خیانت کریں۔ حمل الأمانة - عربی زبان میں خیانت کو کہتے ہیں۔