حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 467
حقائق الفرقان ٤٦٧ سُورَةُ الْأَحْزَابِ معلوم نہیں کہ حضرت امام اپنی عظیم الشان پیشگوئیاں احادیث سے لیتے ہیں اور اپنے دعاوی پر احادیث سے تمسک کرتے ہیں؟ آپ کا مطلب یہ ہے کہ جو حدیث قرآن شریف کے معارض ہو وہ قابلِ اعتبار نہیں ۔ کیونکہ یہ قاعدہ مسلم ہے کہ راجح کا مقابلہ مرجوح نہیں لے سکتے ۔ اس کو آگے بڑھانا اور یہاں تک پہنچانا جہالت ہے اگر میری بات پر توجہ نہ ہو تو تم خود دریافت کر سکتے ہو۔ احادیث سے انکار کرنا بڑی بد قسمتی ہے۔ حضرت امام علیہ السلام نے بار ہا فرمایا ہے کہ ہمارے لئے تین چیزیں ہیں۔ قرآن، سنت اور حدیث ۔ قرآن اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنا یا تو سنت کے ذریعہ اس پر عمل کر کے دکھا دیا اور پھر حدیث نے اس تعامل کو محفوظ رکھا ہے۔ غرض حدیث کو کبھی نہیں چھوڑ نا چاہیے جب تک وہ صریح قرآن شریف کے معارض اور مخالف واقع نہ ہوئی ہو بھلا دیکھو تو اسی نکاح کے متعلق غور کرو کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب آدمی نکاح کرتا ہے تو کیا کیا امور مد نظر رکھتا ہے۔ اور گا ہے عورت بیاہی جاتی ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ مالدار ہے اور گا ہے یہ کہ حسین ہے یا کسی عالی خاندان کی ہے۔ اور بعض اوقات مقابلہ مد نظر ہوتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تربت يداك تا کہ تقویٰ بڑھے۔ ایک سے زیادہ نکاح بھی اگر کرو تو اس لئے کہ تقویٰ بڑھے۔ جب تقوی مد نظر نہ ہو تو وہ نکاح مفید اور مبارک نہیں ہوتا۔ غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۔ انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گا ہے مومن اور گا ہے کافر بنا دیتی ہے معتبر بھی بنا دیتی ہے۔ اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے۔ اس لئے مولیٰ کریم فرماتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو۔ خصوصا نکاحوں کے معاملہ میں اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ تصلح لكم تا کہ تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جاویں۔ صدہا لوگ ان معاملات نکاح میں تقویٰ اور خدا ترسی سے کام نہیں لیتے اور البی حکم کی قدر اور عظمت ان کو مد نظر نہیں ہوتی ۔ بلکہ وہ اس تراش خراش میں رہتے ہیں کہ یہ مقابلہ ہو یا شہوات کو