حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 445
حقائق الفرقان ۴۴۵ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ ۳۴ وَ قَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزَّکٰوةَ وَأَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا - ترجمہ ۔ اور جمی بیٹھی رہو اپنے گھروں میں اور بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو زمانہ جاہلیت کے بناؤ سنگھار کی طرح اور نمازوں کو ٹھیک درست رکھو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی کو اے گھر والیو! اور تم کو خوب پاک صاف بنائے ۔ تفسیر - وَلَا تَبَرَّجْنَ - حضرت عائشہ کو ایک جنگ بھی پیش آ گیا مگر اس میں جاہلیت الاولی کی صورت نہیں۔ رض لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ - نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بی بی ماریہ پہلے عیسائی تھی اور صفیہ یہودی ۔ اس قسم کے تمام عقیدوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں پاک ہوئیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۵) وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ - جاہلوں کی طرح اکھاڑوں میں نہ نکلو۔ اتين الزکوة - عورتوں کو لازم ہے کہ اپنے مال میں سے علیحدہ خود زکوٰۃ دیں۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۶) أَهْلَ الْبَيْتِ ۔ تین دفعہ قرآن میں یہ لفظ آیا ہے۔ تینوں جگہ بیبیاں ہیں۔ شیعہ پر حجت جو بیبیوں کو اس میں گنتے نہیں ۔ ( تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۴) قرآن شریف نے دلائل قیامت بیان کرتے ہوئے ایک لطیف دلیل دی اور وہ یہ ہے۔ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ کہہ دو کہ ان ملکوں کی سیر کرو جہاں انبیاء علیہم السلام جو مصدق قیامت تھے آئے تھے ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ ( النمل : ۷۰) پس تم دیکھو کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے قطع کرنے والوں کا انجام کیا ہوا یعنی جو لوگ مکذب و منکر قیامت تھے ان