حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 442
حقائق الفرقان بنیں گی۔ ۴۴۲ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ پھر آپ کا چال چلن ایسا ہو کہ دوسری عورتیں اسے دیکھ کر نیکی کا نمونہ بنیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا ایک نمونہ صرف ایک نمونہ سناتا ہوں ۔ وہ ایک ایسی بی بی کا ذکر ہے کہ حقیقت میں ہماری ام المومنین کی ماں تھیں ۔ سچا تقومی انسان حاصل کر ہی نہیں سکتا۔ جب تک نکاح سے لباس حاصل نہ کرے ۔ کیونکہ بہت سے تعلقات اور نرمیاں اور اغماص اس رشتہ سے کرنے پڑتے ہیں ۔ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ یہ بطال لوگ جن کا کوئی رشتہ بی بی ۔ بچہ نہیں بڑے نا قابل اعتبار ہیں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے وقت پہلے پہل جس پر اپنا دعویٰ اظہار کیا وہ آپ کی بی بی خدیجہ تھیں ۔ ساتھ ہی اس بی بی کو یہ بھی کہا کہ میں مامور ہوا ہوں ۔اس لئے اپنی جان کا بھی مجھے ڈر ہے۔ یہ نمونہ تعجب انگیز نہیں ۔ اس وقت ہمارے مرشد و مولی بھی تن تنہا ہیں۔ ہندو ، سکھ ، آریہ، عیسائی ، شیعہ وغیرہ وغیرہ کل قو میں دشمن ، رشتہ دار دشمن ، سر پر باپ موجود نہیں غرض اندرونی بیرونی دنیا دشمن ہو رہی ہے۔ پر خدا کے بغیر کون اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ میں خود ابھی تک اس حد تک نہیں پہونچا جسے میں چاہتا ہوں۔ میں نے اس کی پاک زبان سے سنا ہے کہ میں ایک ایسے جنگل میں جانا چاہتا ہوں جس کی راہ میں لوہے کے کانٹے ہیں ۔ پھر ہم بظاہر دیکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی دشواری نظر نہیں آتی۔ مجھ کو جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ محبت ہے۔ وہاں اس بی بی سے بھی اسی طرح کی محبت ہے۔ اس بی بی نے اس وقت آنحضرت کو کیا جواب دیا اور کیسا پاک اور پیارا جواب دیا جو بخاری میں درج ہے کہ میری روح اس پر قربان ہوتی ہے۔ فرمایا کلا و الله نہیں حضور ۔ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خدا کی قسم خدا آپ کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔ آپ تو رحم کا بڑا بھاری لحاظ کرتے ہیں پس رحم کے لحاظ سے بیوی کے رشتہ داروں سے محبت کی جاتی ہے۔ جو شخص ایسا لحاظ کرتا ہے۔ پیارے خاوند وہ ذلیل نہیں ہوتا۔