حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 431 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 431

حقائق الفرقان ۴۳۱ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ رسول خدا نے سعد بن معاذ کو بلایا اور کہا۔ یہ لوگ تیرے فیصلے پر ہمارے پاس آئے ہیں اس سپاہی کو اس قوم کی بد چلنی اور بد عہدی اور ناعاقبت اندیشی اور بنو قینقاع اور بنو نضیر سے عبرت نہ پکڑنے پر یہی سوجھی کہ اس بدذات قوم کا قصہ تمام کرو۔ اس نے کہا ان کے قابلِ جنگ لوگ مارے جاویں اور باقی قید کئے جاویں۔ غرض کئی سو آدمی قریظی مدینہ میں لا کر قتل کیا گیا۔ مانا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ چاہے کوئی کیسے جرائم اور معاصی کا مرتکب ہو جب اس سے کوئی ایسا سلوک کیا جاوے جو ہمارے نزدیک سختی اور بے رحمی ہے تو اس وقت ہمیں خواہ مخواہ ایک نفرت اور کراہت معلوم ہوتی ہے اور ہمارے دل میں رحم عدل کی جگہ کو چھین لیتا ہے۔ مگر رحم کے باعث عدل چھوڑنا اور جرائم کی سزا سے درگزر نہ چاہیے۔ یہود نے دغادی ، بد عہدی کی ، عین شہر کا امن کھو دیا۔ مسلمانوں کی توحید اور موسی و توریت کی تعظیم کو بت پرست قوم کے مقابلہ میں بھلا دیا۔ بہر حال مسلمانوں کا حکم قریظہ کی نسبت گراموں کے حکم سے بہت کم تھا۔ جس کے بموجب آئرلینڈ میں شہر ورڈ ہیڈا کے سب باشندے بلا فرق تہ تیغ بے دریغ کئے گئے ۔ کارلائل لکھتا ہے۔ سچ ہے شریر کا سو مرتبہ قتل ہونا بہتر ہے کہ وہ بے گناہوں کو اغوا کرے۔ یہ اسلام کا فعل اس وقت کے مارشل لاء سے بہت نرم تھا۔ اور حضرت داؤد کی سزا سے جس میں انہوں نے جیتے آدمی جلتے پزاووں میں جلائے اور پھر ہمیشہ خدا کے مطیع کہلائے۔ نہایت نرم ہے۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۱۶ تا ۱۱۹) سورہ احزاب میں ۔ تمام عرب کے مختلف فرقے مدینے پر چڑھ آئے اور مدینے کے یہود اور کل منافق لوگ ان حملہ آوروں کے ساتھ شریک ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی سے مکے میں دے دی تھی کہ عرب کے احزاب اور ان کی سنگتیں ہم پر چڑھ آئیں گی۔ ( جیسا عنقریب آتا ہے ) الا وہ سب بھاگ کر نا کامیاب چلے جائیں گے اور ایسا ہوا کہ جب مسلمانوں نے اس فوج کثیر کو دیکھا با ایں ہمہ قلت تعداد بول اٹھے۔ وَ لَمَّا ذَا الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هُذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَ