حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 430
حقائق الفرقان لدله ۔ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ لہذا مقتضی عاقبت اندیشی نے بتایا تو آپ مقام جنگ سے جہاں خود حفاظتی کیلئے آپ نے کھائی کھود لی تھی۔ مدینے میں تشریف لائے اور قلعہ جات بنو قریظہ کا محاصرہ کیا۔ دس پندرہ روز محاصرے میں لگ گئے ۔ اب قلعہ بند لوگ گھبرائے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا (وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ) تب یہودان بنو قریظہ کا رئیس کعب بن اسد قوم میں کھڑا ہوا اور وہ اسپیچ دی جس میں کہا۔ اے قوم تم کو مناسب ہے۔ تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ یا تو اس شخص ( محمد) پر ایمان لاؤ۔ تم کو صاف عیاں ہو چکا ہے یہ شخص بے شک نبی ہے۔ اور یہ وہی ہے جس کی بابت توریت میں پیشین گوئی اور بشارت ہو چکی ہے۔ تم اور تمہارا مال و اسباب اور تمہاری جانیں بچ رہیں گی قوم نے اس پر انکار کیا تب اس نے کہا۔ آؤ عورتوں اور بچوں کو قتل کر ڈالیں ( اس کی سزا پائی ) اور تلواریں لے مسلمانوں پر گر پڑیں یہاں تک کہ شہید ہو جاویں ۔ قوم نے کہا اگر ہم جیت گئے تو بال بچوں اور عورتوں کے بغیر ہماری زندگی کیونکر ہوگی؟ تب کعب نے کہا۔ آج سبت کی رات ہے۔ محمدی جانتے ہیں آج ہم غافل ہیں لڑ نہیں سکتے اس لئے مسلمان بھی غافل اور سست ہیں ۔ آؤ غفلت میں مسلمانوں پر حملہ آوری کریں ۔ تب قوم نے کہا۔ تجھ کو خبر نہیں سبت کی بے حرمتی سے ہمارے بڑوں پر کیسے وبال آئے ۔ وہ سو راور بندر بن گئے ۔ آخر قوم کے اتفاقات سے یہود نے ایک سفیر جناب رسالت مآب کے حضور روانہ کیا۔ اور کہا ابولبابہ بن منذر کو ہمارے پاس بھیجئے۔ ہم اس سے صلاح لیں گے۔ جب ابولبابہ انکی درخواست سے وہاں آئے۔ عورتیں اور بچے چلائے ۔ اور یہود نے کہا۔ کیا تیری صلاح ہے۔ ہم لوگ محمد کے فیصلہ پر دروازہ کھول دیں؟ اس نے کہا۔ بیشک ۔ مگر اشارہ کیا۔ وہ تم کو ذبح کا فتویٰ دیں گے۔ پھر ابولبابہ پچھتایا اور اپنے آپ کو مسجد میں جا باندھا۔ جب محاصرے پر مدت گزری اور وہ یہود تنگ ہوئے تو ان کم بخت لوگوں نے کہلا بھیجا ہماری نسبت جو سعد بن معاذ فیصلہ کرے۔ وہ فیصلہ ہم کو منظور ہے۔ بدقسمتوں نے رحمۃ للعالمین کو حاکم نہ بنایا۔ بلکہ سعد کے فتوے پر راضی ہو گئے۔ اور قلعہ سے نکل آئے۔ لے اور ڈالا ان کے دلوں میں خوف کو ۔