حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 423 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 423

حقائق الفرقان ۴۲۳ سُورَةُ الْأَحْزَابِ ووووده ١٠ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا - ترجمہ ۔ اے ایماندارو! اللہ کا احسان یاد کرو جو تم پر ہے جب چڑھ آئے تم پر لشکر تو ہم نے بھیجی ان پر ہوا اور وہ فوجیں جن کو تم نے نہیں دیکھا اور تم جو کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ تفسیر ۔ نِعْمَةَ اللهِ - جنگ احزاب میں فتح ۔ قصه جنگ احزاب مدینہ میں جو یہود رہتے تھے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امن کا اور بیرونی مخالف کا مقابلہ کرنے کا وعدہ کر چکے ہوئے تھے ۔ ان کی خفیہ سازش کے ساتھ دس ہزار عرب مسلمانوں کے برخلاف لڑائی کرنے کے واسطے مدینہ منورہ پر چڑھ آئے۔ اندر سے یہود دشمن ہو گئے ۔ باہر سے اس قدر لشکر آیا۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑے سے مسلمانوں کے ساتھ جن کی تعداد اس وقت چھ سو تھی ۔ اس لشکر کے مقابلہ کے واسطے نکلے ۔ ایک پہاڑی کے پہلو میں رات گزارنے کے واسطے ڈیرہ لگایا ۔ ایک طرف پہاڑ تھا۔ اور ایک طرف به نظر اسباب ظاہری ایک خندق کھودی گئی ۔ اتنے بڑے لشکر کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کیا تعداد تھی۔ آپ دعاؤں میں لگے رہے۔ ایک رات کو آدھی رات کے قریب آپ نے آواز دی کہ کوئی ہے جو جا کر دیکھے کہ کافروں کا لشکر کہاں ہے۔ تیز ہوا سردی اور دشمنوں کا ڈر جس نے آپ کا آواز سنا وہ بھی مارے خوف کے خاموش ہو رہا۔ لیکن ایک صحابی اٹھا اور باہر گیا۔ اور واپس آ کر خبر دی کہ کفار کا نام و نشان نہیں ۔ معلوم نہیں دس کا دس ہزار کہاں چلا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب وہاں سے اس طرح بھاگ گئے تھے جس طرح ایک چھوٹا سا لشکر کسی بڑے عظیم الشان لشکر کے ڈر سے ہراساں وتر ساں بھاگ جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ اس طرح سے خداوند تعالیٰ نے قائم کی کہ رات کو جب تیز ہوا چلنی شروع ہوئی تو ایک کافر سردار کے ڈیرے کی آگ بجھ گئی ۔ آگ سے وہ لوگ جنگ کی تعبیر لیا کرتے تھے۔ بجھ گئی۔ سے وہ لیا کرتے اور میدانِ جنگ میں آگ کا بجھنا ایک بڑی بدشگونی سمجھی جاتی تھی۔ کافر نے سوچا کہ یہاں خیر نہیں ۔