حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 421

حقائق الفرقان ۴۲۱ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ یوں ہے ۔ کفی بالله - اكتفِ بالله ۔ ایک جملہ کا اللہ اور دوسرے کا ا كتف حذف کیا ہے۔ رود (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۵ مورخہ یکم ستمبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۴) - مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّي تُظهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ - ترجمہ ۔ اللہ نے نہیں پیدا کئے کسی شخص کے لئے دو دل اس کے اندر اور نہیں بنا یا تمہاری بیبیوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو واقعی تمہاری ماں اور متبناؤں کو تمہارا بیٹا نہیں بنایا۔ یہ تو تمہارے منہ کی بات ہے اور اللہ تو حق ہی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتا تا ہے۔ تفسیر نہیں بنائے اللہ نے دو دل کسی شخص کے اندر اور نہ بنایا ہے تمہاری ان بیویوں کو جن کو تم نے مائیں کہا۔ تمہاری مائیں ۔ اور نہ بنایا ہے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے ۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ حق فرماتا ہے۔ اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے کہ جیسا یہ ناممکن ہے کہ کسی کے اندر دو دل ہوں ۔ ایسا ہی یہ بھی ناممکن ہے کہ اس ماں کے سوائے جس کے پیٹ سے آدمی نکلتا ہے کوئی اور عورت اس کی حقیقی ماں بن جاوے اور ایسا ہی یہ بھی ناممکن ہے کہ اس باپ کے سوائے جس کا نطفہ انسان ہو کوئی دوسرا اس کا باپ بن جاوے۔ یہ سب منہ کے کہنے کی بات ہے کہ کوئی کسی عورت کو ماں کہہ دے یا کسی مرد کو اپنا باپ کہہ دے ورنہ حقیقت میں ماں صرف وہی ہے جو ایک ماں ہے۔ اور باپ صرف وہی ہے جو ایک باپ ہے۔ نہ کسی کے اندر دو دل ہو سکتے ہیں اور نہ ایک بچہ دو بیٹوں سے نکلتا ہے۔ اور نہ ایک بیٹا دو مختلف مردوں کے نطفوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ کسی شاعر نے اس مثال کو شعر میں خوب بیان کیا ہے۔ ه ہم معتقد دعوی باطل نہیں ہوتے سینہ میں کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے ( بدر جلد نمبر ۲۵ مورخه ۲۲ ستمبر ۱۹۰۵ ء صفحه (۳)