حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 415 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 415

حقائق الفرقان ۴۱۵ سُورَةُ السَّجْدَةِ تفسیر - وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ - حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یقیناً موسیٰ علیہ السلام کا مثیل بنایا گیا ہے۔ چنانچہ ان آیات سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - (المزمل : ١٢) (۲) - وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَأَمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ - (الاحقاف (1) شاہد انبیاء کی ذات ہوتی ہے۔ (۳) - إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ أَنْ يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ - (آل عمران : ۷۴) تو رات کے استثناء باب ۵-۱- آیت ۔ اعمال کے تین باب میں اسی مثلیت کا ذکر ہے۔ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ ۔ اس کے معنے کئے گئے ہیں کہ موسیٰ تجھے ملیں گے چنانچہ معراج میں ملاقات ہوئی ۔ مگر میرے نزدیک یہ معنے نہیں نکلتے ۔ مطلب یہی ہے کہ تم موسی کے مثیل ہو۔ تمام پیشگوئی کے واقعات اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔ جَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً ۔ امام بننے کیلئے تین شرائط فرمائی ہیں ۔ (1) - يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا ۔ ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کریں (۲)۔ لَمَّا صَبَرُوا اپنے آپ کو بدیوں سے بچانے کیلئے باہمت طعن و تشنیع سننے پر دلیر اور خدا کی بتائی ہوئی بات پر مستقل رہتے ہیں ۔ (۳) ۔ وَكَانُوا بِأَيْتِنَا يُوقِنُونَ ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔ (۴) ۔ چوتھی بات اس سے نکلتی ہے وہ یہ کہ وہ امام بننے کی خواہش نہیں رکھتے ۔ نہ اس کے منصوبوں میں رہتے ہیں۔ جَعَلْنَا مِنْهُمْ ۔ سے ظاہر ہے کہ امت محمدی میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو خدا سے الہام پا اے ہم نے تمہاری طرف ویسا ہی رسول بھیجا ہے۔ جو تم پر نگران ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ بنی اسرائیل کا ایک حکمران شہادت دے چکا اپنے مثیل کی تو وہ ایمان لا چکا اور تم نے اپنے کو بڑا سمجھا اور دوسرے کو حقیر سے ہدایت اللہ کی ہدایت یوں ہے کہ کسی کو وہ ملے جو تمہیں ملا ۔