حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 400
حقائق الفرقان لد ۔۔ سُورَةُ لُقُمْنَ کچھ نشانیاں ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک بڑے صابر و شاکر کے لئے ۔ تفسیر اللہ تعالیٰ نے مختلف ممالک میں مختلف نعمتیں دی ہیں مثلاً عرب میں کھجور، ہندوستان میں آم ، کابل میں انگور۔ ایسا ہی کسی کو کوئی علم بخشا ہے کسی کو کوئی ہنر۔ ان تمام ممالک میں تبادلۂ انعام و خیالات کے لئے جہاز ہیں ۔ بِنِعْمَتِ اللهِ ۔ اللہ کے فضل سے مختلف قسم کی نعمتیں لے کر ۔ صَبَّارٍ شَكُورٍ ۔ دور کی نعمتیں دیکھ کر انسان شکر بجالائے ۔ اور اپنے تئیں اعتداء عصیان سے بچائے۔ یہ آیت بائیکاٹ کرنے کی تردید کرتی ہے۔ تبادلہ اشیاء غیر ممالک سے منع نہیں ۔ بلکہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کا ادائے شکر ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۱) الَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ أَيْتِهِ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کشتی سمندر میں چلتی ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے۔ تا کہ تم کو اس کے نشانات دکھائے۔ اس میں پیشگوئی ہے کہ مسلمانوں کے فتوحات وہاں تک پہنچیں گے کہ تم کشتیوں اور جہازوں پر سوار ہو کر دوسرے ممالک اور جزائر میں جاو گے اور ان کو فتح کرو گے۔ چنانچہ حضرت عثمان کے زمانے میں جزائر قبرص وروڈس فتح ہوئے ۔ اور مسلمان جہازوں پر چڑھ کر ان جزائر کو گئے ۔ جن میں ایک بیوی ام ایمن نام بھی شامل تھیں۔ جن کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے ہنس کر جاگے۔ تو اس بی بی نے سبب اس خوشی کا دریافت کیا تو اس پر فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ مسلمان جہازوں پر اس طرح سوار ہیں جس طرح بادشاہ تختوں پر ۔ تب اس نے عرض کیا کہ دعا کرو۔ میں ان لوگوں میں ہو جاوں ۔ فرمایا۔ تو ان میں سے ہے پھر آپ سور ہے اور ہنس کر اٹھے تو اس بی بی کے سبب دریافت کرنے پر وہی بات فرمائی اور اس عورت نے وہی پہلی دعا چاہی ۔ تو آپ نے فرمایا کہ تو پہلے لوگوں سے ہے۔ آنحضرت نے اسی وقت فرمایا تھا کہ تو ان میں سے ہوگی ۔ جو پہلے جہاز پر سوار ہو کر جائیں گے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۲ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۶ )