حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 395
حقائق الفرقان ۳۹۵ سُوْرَةُ لُقُمْنَ تفسیر۔ اے بیٹے نماز کی پابندی کر ۔ نیک باتوں کا امر کر اور بری سے روک اور مصیبتوں پر صبر کر یقیناً یہ بڑے حوصلہ کی بات ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۵۶ حاشیہ ) يبْنَى أَقِمِ الصَّلوةَ ۔ پہلے عقائد کے بارے میں فرمایا ۔ اب عملی حصہ کے متعلق وعظ سناتا ہے۔ (۱) ۔ جب عقائد صحیحہ ہو گئے (۲)۔ اعمالِ صالح ہو گئے۔ پھر تم نے امر بالمعروف شروع کیا تو لوگوں کی مخالفت پر صبر و استقلال سے کام لو۔ اس کے بعد جب تمہیں کامیابی حاصل ہو تو دیکھنا متکبر نہ ہو جانا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۱) وَ اصْبِرُ عَلَى مَا أَصَابَكَ - جو مصائب تجھ پر آئیں ۔ ان میں صبر کر۔ حضرت لقمان نے جب اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ لوگوں کو نیکی کا حکم کر اور بدی سے منع کر تو چونکہ اس حکم کی تعمیل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ نیک نصیحت کرنے والوں اور بدی سے منع کرنے والوں کے لوگ مخالف ہو جایا کرتے ہیں۔ اور ان کو دکھ دیا کرتے ہیں اس واسطے ساتھ ہی ایسے مصائب پر صبر کرنے کی وصیت کی ۔ آجکل کے صوفیوں میں ایک ملامتی فرقہ کہلاتا ہے جو جان بوجھ کر ایسے کام کرتے ہیں ۔ جن سے وہ مخلوق کے درمیان قابل ملامت ہو جائیں ۔ مثلاً رمضان شریف میں بغیر عذر لوگوں کے سامنے روزہ توڑ دیا۔ اور کچھ کھانے پینے لگ گئے اور بعد میں خفیہ طور پر اس کا کفارہ ساٹھ روزہ رکھ لیا۔ یہ اس واسطے کرتے ہیں کہ خلقت کے درمیان قابل تعریف نہ بنیں بلکہ ملامت کئے جائیں ۔ لیکن یہ ملامتی بننے کا طریق انبیاء ورسل کے خلاف ہے۔ جو لوگ احکام الہی پر عمل کر کے خلقت کے درمیان آمر بالمعروف و نا ہی عن المنکر بنتے ہیں ۔ وہ تو خود بخود ملامتی ہو جاتے ہیں ۔ ( بدر جلد نمبر ۲۲ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۶) ۱۹ - وَلَا تُصَجِّرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ - ترجمہ ۔ اور منہ نہ پھیر لیا کر لوگوں سے اور نہ چل زمین پر اکڑ کر بے شک اللہ پسند نہیں کرتا کسی اترانے والے شیخی باز کو۔