حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 387
حقائق الفرقان ۳۸۷ نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ - (البقرة: ۶۷) سُوْرَةُ لُقُمْنَ ( بدر جلد نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه (۳) بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۔ ایسا ستون نہیں جو تم دیکھ سکو۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۳) ۱۳ - وَ لَقَدْ آتَيْنَا لُقُمْنَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرُ لِلَّهِ وَمَنْ يَشْكُرُ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ - ترجمہ ۔ اور ہم نے عطا فرمائی لقمان کو حکمت ( یعنی پکی سمجھ ) اور حکم دیا کہ اللہ کا شکر کیا کرو اور جو شکر یعنی کی اور یا کہ اللہ کا کرکیا اور کرتا ہے اس کے سوائے نہیں کہ وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے ( تو وہ اللہ کا کیا بگاڑے گا کیونکہ اللہ بے پر واسراہا گیا ہے۔ گا) تفسیر - الحكمة - نہایت مضبوط بات جس کا انجام بخیر ہو۔ جموں میں ایک شخص تھا جس نے علموں کی تعریفیں یاد کر رکھی تھیں ۔ اکثر اہل علم کا اس ذریعہ سے امتحان کر کے ان کو بر سر محفل نادم کیا کرتا ایک دن مجھ سے بھی سوال کیا کہ حکمت کی جامع مانع تعریف کیا ہے؟ میں نے سورۃ بنی اسرائیل کا رکوع ۴ کا ترجمہ سنا دیا۔ اس کے اخیر میں ہے ۔ ذَلِكَ مِمَّا أَوْلَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ (بنی اسرائیل : ۴۰) شن کردم بخود رہ گیا۔ آنِ اشْكُرُ لِلهِ ۔ شکر کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ فرمایا لينُ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمُ (ابراهيم:۸) تم شکر کرو گے تو قسم ہے ہمیں اپنی ذات کی کہ ہم ضرور بڑھ چڑھ کر دیں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۱) الحكمة - يہ لفظ ان الفاظ میں سے ہے جن کے معانی عام استعمال میں ٹھیک نہیں لئے گئے۔ آجکل کے محاورہ میں حکمت طبابت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت دی اور ا پھر ہم نے اس نافرمان جماعت کو موجودہ اور آگے آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کا مقام بنادیا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے واسطے بڑی نصیحت کا موجب ہوا ۔ ۲ یہ ان باتوں میں سے ہیں جو وحی کی تیرے رب نے تیری طرف حکمت اور مصلحت سے۔ سے اگر تم شکر کرو گے تو میں ( خود ) تم کو اور زیاہ کر دوں گا ۔