حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 377

حقائق الفرقان ۳۷۷ سُورَةُ الرُّومِ مشرک فی الحکم بھی بنا کیونکہ اس نے اس ذریعے سے رزق تلاش نہیں کیا جو خدا نے مقرر کیا تھا بلکہ وہ أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ الهَا هَوَاهُ (الجاثية : ۲۴) کا مورد بنا اور اپنی ناجائز تد بیر پر بھروسہ کیا۔ اس آیت میں یہ نکتہ بھی قابل یادداشت ہے کہ نہ تو تمام قوم نیک ہو جاتی ہے نہ تمام ہی بری۔ بلکہ اکثر پر حکم ہوتا ہے۔ ایک خاص شخص کے معاملہ میں بھی یہی بات ہے کہ جب بدیاں نیکیوں سے بڑھ جائیں تو عذاب نازل ہوتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۱۹۹) -٢- فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيْمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُ مِنَ ママ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ترجمہ ۔ تو گوا اپنی توجہ کو فطرت اللہ ہی پر لگا رکھ اس سے پہلے کہ آ موجود ہو وہ دن جو ٹلتا نہیں اللہ کی طرف سے۔ اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔ تف تفسیر - فَاقِمُ وَجْهَكَ ۔ قرآن شریف میں جب واحد مخاطب ہو تو مفسر عام طور پر اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد لیتے ہیں۔ مگر یہ صیح نہیں بلکہ تمام لوگ فرداً فرداً تاکید کے لئے مخاطب ہیں ۔ اس کے معنے ہوئے اپنی توجہ کو ٹھیک ٹھیک قائم کرلے۔ يوم يوم مطلق وقت کے معنے میں بھی آتا ہے۔ يَصَّدَّعُونَ ملاپ والی چیز جب پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو اسے صدع کہتے ہیں ۔ اس کے معنے ہیں جدا جدا ہو جائیں گے ۔ یعنی دودھ کا دودھ پانی کا پانی۔ نیک الگ بدا لگ۔ فرماتا ہے اس کامل امتیاز کا دن آنے سے پہلے کچھ کر لو۔ لده ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ راگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۹) مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلا نُفُسِهِمْ يَشْهَدُونَ - ترجمہ۔ جو کافر ہوا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر اور جس نے بھلے کام کئے تو وہ اپنی ہی جانوں کے لئے آرام گاہ تیار کرتے ہیں۔ تفسیر - کفرہ کفر جیسے انکار اور حق پوشی کو کہتے ہیں۔ ایسا ہی ناشکری کو یہ بھی تمام بدیوں کا جامع ا بھلا تو نے دیکھا اس کو جس نے اپنا معبود بنا لیا اپنی خواہش کو ۔