حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 342
حقائق الفرقان ۳۴۲ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - - اس سورہ عنکبوت کو ہم اس اللہ کے نام سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن و رحیم ہے۔ - اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ترجمہ ۔ کیا لوگوں کو خیال ہے کہ وہ چھوڑے جائیں یوں ہی ۔ یہ جو کہہ دیتے ہیں کہ ایمان لائے حالانکہ ابھی تک تمیز نہ ہوئی ، امتحان نہیں کیا گیا۔ تفسیر اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ کوئی انسان کہہ دے کہ میں مومن ہوں ۔ تو یہ تو مختلف وجوہات سے مثلاً کسی شرم و لحاظ سے کہہ سکتا ہے۔ کہ میں مومن ہوں چنانچہ قرآن کریم کے دوسرے رکوع میں لکھا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں لیکن در حقیقت وہ مومن نہیں ہوتے ۔ آجکل نئی روشنی میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہے کہ جس قسم کی سوسائٹی ہے ویسے ہی ہو جاؤ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب صرف سوسائٹی میں آرام سے رہنے کا ذریعہ ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ میں مومن ہوں ۔ کافی نہیں ۔ جتنی قو میں ان سے پہلے آئی ہیں۔ سب کو کٹھالی میں ڈالا گیا تا معلوم ہو کہ کون جھوٹے ہیں اور کون سچے ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۵ ۱۹۶) یاد رکھو کہ ہماری اور ہمارے امام کی کامیابی ایک تبدیلی چاہتی ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستور العمل بناؤ۔ نرے دعوے سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اس دعوے کا امتحان ضروری ہے۔ جب تک امتحان نہ ہو لے کوئی سارٹیفکٹ کامیابی کامل نہیں سکتا ۔ خیر القرون کے لوگوں کو بھی یہی آواز آئی ۔ احَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ -