حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 311
حقائق الفرقان ۳۱۱ سُورَةُ النَّمْلِ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ نبوت والہام بنی اسرائیل میں محدود ہے۔ اس زمانہ میں بھی کہتے ہیں کہ سوائے بنی فاطمہ کے کسی میں مہدی نہیں آسکتا۔ لیکن جیسے بنی اسحاق کی بجائے بنی اسمعیل میں نبی آیا ایسے ہی اس زمانہ میں بھی امام آیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۱۹۱) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت میں یہود اور نصاری کو کہا تھا مجھے اللہ تعالیٰ نے الہامی کتابوں کا مفسر بنایا اور جو کچھ اگلی امتوں نے الہامی کتابوں کے فہم میں غلطی کی اور غلطی سے ضروری مسائل میں باہم اختلاف کیا یا حق کے مخالف ہو گئے ۔ اس اختلاف کے مٹانے کو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول کیا ہے۔ ضرورت نبوت کے اور وجوہ بھی ہیں جو ہم نے اسی کتاب لے میں کچھ ان میں سے لکھے ۔ مگر یہ بھی ایک ضرورت تھی۔ قرآن میں میرے اس قول کی تصدیق یہ ہے۔ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۶۴) - إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَوْا مُدْبِرِينَ - ترجمہ ۔ بے شک تو تو نہیں سنا سکتا آواز مردوں کو اور نہ بہروں کو جب وہ منہ پھیر کے چلے جائیں۔ تفسیر - إِنَّكَ لَا تُسْمِيعُ الْمَوتی۔ یہاں سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ مردے نہیں سنتے ۔ یہ صحیح نہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۱) وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ : انَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوْقِنُونَ ۔ ترجمہ ۔ اور جب آ پڑے گا ان پر وعدہ عذاب کا تو نکالیں گے ہم ان کے لئے ایک جانور زمین سے جوان کو کاٹے گا۔ زخمی کرے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ تفسیر - وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ - صحابہؓ نے اس کے متعلق فرمایا۔ إِذَا تُرِكَ الْأَمْرُ بِال ما يا - إِذَا تُرِكَ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَإِذَا لَمْ يَعْرِفُوا مَعْرُوفًا وَلَمْ يُنْكِرُوا مُنْكَرًا جب خود نیکی نہ کریں اور نہ دوسرے کو نیکی کی ترغیب دیں۔ اے فصل الخطاب - مرتب کے یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔