حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 306
حقائق الفرقان ۳۰۶ سُورَةُ النَّمْلِ ٦١ - أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا وَالهُ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٍ يَعْدِلُونَ - ترجمہ ۔ بھلا کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور تمہارے لئے بادل سے پانی برسا یا پھرا گائے اس کے ذریعہ سے رونق دار باغ ۔ تم سے کبھی نہیں ہو سکتا کہ تم اگا دیتے ان کے درختوں کو تو کیا کوئی بھی معبود ہے اللہ کے ساتھ والا ؟ ہاں وہ قوم تو حد سے تجاوز کرنے والی ہے۔ تفسیر۔ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے بادل سے پانی اُتارا۔ پھر ہم نے اس سے خوشنما باغ اگائے۔ تمہاری قدرت میں نہ تھا کہ تم درختوں کو اگاتے ۔ بتاؤ کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ مشرک ہیں ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۲) خدا نے فرمایا کہ امن خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ - تو کفار مکہ جو بڑے مشرک تھے ۔ انہوں نے بھی کہا ۔ اللہ ۔ اسی طرح ان کے جاہلیت کے شعروں میں اللہ کا لفظ کسی اور پر نہیں بولا گیا۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه (۲) - ۶۲ - امَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَ جَعَلَ خِللَهَا انْهَرَا وَ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَ جَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا وَالهُ مَعَ اللهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ - ترجمہ ۔ بھلا کس نے بنا یا زمین کو قرارگاہ اور اس کے اندر ندیئیں بہادیں اور اس پر پہاڑ کھڑے کر دیئے اور دو دریاؤں میں مضبوط فرق رکھ دیا ۔ کیا کوئی اللہ کے ساتھ معبود ہے؟ ہاں وہ تو اکثر جاہل ہی ہیں ۔ - تفسیر۔ کس نے زمین کو تمام چیزوں کیلئے قرارگاہ بنایا اور اس میں دریا رواں کئے اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان روک بنائی۔ بتاؤ کوئی اور معبود اللہ کے ساتھ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ نادان لوگ ہیں۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۲) ہر انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اپنے سے بڑے اور زبردست کی بات کا پاس کرتا ہے۔ اللہ