حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 271
حقائق الفرقان ۲۷۱ ١٠٠ وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ - ترجمہ ۔ اور ہم کو تو بس ان ہی مجرموں نے گمراہ کیا۔ تفسیر اور ہم کو راہ سے بھلا یا ان گنہ گاروں نے۔ سُورَةُ الشُّعَرَاء فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۱۶ حاشیه ) الْمُجْرِمُونَ ۔ خدا سے قطع تعلق کرنے والے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۷) ۱۱۲، ۱۱۳ - قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذُلُونَ - قَالَ وَ مَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - ترجمہ ۔ وہ بولے کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیرے مرید کم درجے کے لوگوں میں سے ہیں۔ نوح نے کہا اور مجھے کیا علم ہے کہ وہ کیا کام کرتے تھے۔ تفسیر۔ حضرت نوح علیہ السلام کا ملک دجلہ فرات میں تھا۔ وہاں کے رہنے والے بڑے عیش میں تھے جیسے کہ آجکل یوروپ و امر کا یوروپ و امریکہ کا حال ہے۔ ان کی دولتمندی کا یہ حال ہے کہ سنکھ در سنکھ تک کوئی چیز نہیں ۔ اور عرب میں تو بس ۱ - ۱۰ - ۱۰۰ ۔ ۱۰۰۰ تک ہے۔ حضرت مسیح نے کہا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا آسان ہے۔ پر دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اسی واسطے انبیاء کے متبعین غریب لوگ ہوتے ہیں اور نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت نوح کو بھی کہا وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ۔ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - حضرت نوح سمجھاتے ہیں کہ ان غریبوں نے کوئی ایسا عمل کیا جس سے ان کو نبی کی متابعت کی سعادت حاصل ہوئی اور تم نے کوئی ایسا عمل کیا جس کی وجہ سے خدا نے تمہیں یہ توفیق نہ بخشی اور تم منکرانِ رسالت سے ہوئے۔ ملتا خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج انسان کا سلسلہ اعمال چلتا ہے اور اس سلسلہ کے مطابق اعمال کا پھل انسان کو ملتا ہے۔ لے پہلی اینٹ جب معمار ٹیڑھی لگا دے تو اگر دیوار ثریا تک بھی جا پہنچے گی تو ٹیڑھی ہی ہوگی ۔