حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 238
حقائق الفرقان ۲۳۸ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ کے سبب امتحان سے پہلے کہ دیتا ہے۔ یا لکھ دیتا ہے کہ یہ لڑکا ضرور فیل ہو جائے گا۔ اور بعد میں وہ فیل ہو جاتا ہے۔ تو استاد کے کہنے یا لکھنے نے اس کو فیل نہیں کر دیا۔ بلکہ اس کی اس حالت نے ایک دانا استاد کو پہلے سے یہ علم دے دیا۔ چونکہ خدا جو عالم الغیب ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم کیا کریں گے لیکن اس کے جاننے نے ہم کو مجبور نہیں کیا۔ بلکہ ہمارا ایسا کرنا اس امر کا موجب ہوا تھا کہ خدا کو پہلے سے یہ علم حاصل ہو۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۳ مورخه ۲۹ جون ۱۹۰۵ صفحه (۳) وَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَ لَا نَفْعًا وَّ لَا يَمْلِكُونَ مَوْتَا وَ لَا حَيُوةً وَلَا نُشُورًا - ترجمہ ۔ اور لوگوں نے جھوٹے معبود ٹھہرا رکھے ہیں اللہ کے سوا ، جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود ہی پیدا کئے جاتے ہیں اور وہ مالک نہیں اپنے حق میں نہ برے کے نہ بھلے کے اور نہ مالک ہیں مرنے کے نہ جینے کے اور نہ (مرکر ) جی اٹھنے کے۔ تفسیر ۔ اور اس کے سوائے اور معبود اختیار کئے جو کچھ پیدا نہیں کرتے۔ اور خود مخلوق د مخلوق ہیں۔ اس آیت شریف میں ان تمام ادیان باطلہ کی طرف اشارہ ہے جن میں خدا کے سوائے کسی اور کو معبود بنایا گیا ہے۔ اور یہ ایک بین دلیل اس امر کی ہے کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں ۔ کیونکہ جس کو خلق کی طاقت نہیں وہ اپنی غیر مخلوق سے عبادت کرانے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع خدا تھا۔ ان کا یہ مسئلہ بڑی آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔ جبکہ سوال کیا جاوے کہ یسوع نے کیا پیدا کیا۔ پیدا کرنا تو جداوہاں تو یہ حال ہے کہ اپنے ہی شاگرد نے یہودیوں کے ہاتھ پکڑوا کر پھانسی دلوادیا۔ اور اتنا نہ ہو سکا کہ ان پھانسی دینے والوں کو مار ہی دیتا ۔ کیونکہ خدا میں دونوں طاقتیں ہیں پیدا کرنا اور مارنا۔ خود عیسائی لوگ بھی یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ مسیح نے کچھ پیدا کیا تھا۔ موجودہ انجیلوں نے تو عیسویت کا اور بھی بیڑہ غرق کیا ہے۔ کیونکہ ان میں لکھا ہے کہ یسوع نے بہت رو رو کر دعا کی کہ صلیب سے بیچ نکلے پر پھر بھی بچ نہ سکا۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۳ مورخه ۲۹ جون ۱۹۰۵ ء صفحه (۳)