حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 237
حقائق الفرقان ۲۳۷ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ سے مان کر گناہ میں بے باک ہیں۔ وہ سوچیں کہ ان کی بات کچھ بھی راست ہے۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۰۹ تا ۳۱۴) وہ جس کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمینوں کی اور جس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اور جس نے ہر شئے کو پیدا کیا اور پھر ہر شئے کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقرر کیا۔ آسمان و زمین سب جگہ خدا کی سلطنت ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اس واسطے وہی ایک عبادت کے لائق ہے۔ کسی اور کو معبود بنایا جاوے تو باطل ہے ۔ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا (بنی اسرائیل: ۱۱۲) اس نے اپنا کوئی بیٹا نہیں بنایا۔ اس میں عیسائیوں کی تردید ہے۔ جو مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں ۔ خلق كُلَّ شَيْءٍ ہر شئے کا وہی خالق ہے۔ اس میں آریوں کی تردید ہے۔ جن کا مذہب ہے کہ خدا مادہ اور روح وغیرہ کا خالق نہیں ۔ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا خدا نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے کیا معنے؟ جیسا عمل کیا جاتا ہے۔ ویسا ہی پھل ملتا ہے۔ نیکی کرنے والا بد نتیجہ نہیں پا سکتا۔ اور بدی کرنے والا نیک ملتا نتیجہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ سست آدمی چستی کا فائدہ نہیں پا سکتا۔ یہ مسئلہ تقدیر کا بڑی ہمت بڑھانے والا ہے اور انسان کو اعلیٰ مراتب پر پہنچانے والا ہے۔ افسوس ہے کہ جن لوگوں نے اس کے صحیح معنے نہیں سمجھے وہ اس کو اپنی تمام کمزوریوں اور غفلتوں کی ڈھال بناتے ہیں ۔ مسئلہ تقدیر کو مولوی رومی صاحب نے ایک رباعی میں خوب ادا کیا ہے از مذاہب مذہب دہقان قوی اے مولوی مذہب دہقان چه باشد هرچه کشتی بدروی گندم از گندم بروید جو ز جو هرچه کشتی بدروی اے مولوی کے سوال: جب خدا تعالیٰ انسان کے اعمال نیک و بد کو پہلے سے لکھ چکا ہے۔ تو پھر انسان مجبور ه ہے۔ کیونکہ ان میں کچھ کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۔ جواب: علم تابع معلوم ہوتا ہے۔ خدا کے علم نے ہم کو مجبور نہیں کیا کہ ہم یہ کام کریں یا نہ کریں بلکہ ہمارے اس کام کے کرنے یا نہ کرنے کے سبب خدا کو علم حاصل ہے۔ مثلاً استاد ایک لڑکے کی کم تو جہی اے اے مولوی ! تمام مذاہب میں دہقان کا مذہب سب سے طاقتور ہوتا ہے۔ دہقان کے مذہب کا اصول ( یہ ) ہے کہ وہ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ گندم سے گندم پیدا ہوتی ہے اور جو سے جو ۔ اے مولوی جو تو ہوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔