حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 235
حقائق الفرقان ۲۳۵ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ اس کی سعی اور اعمال کو محفوظ رکھنے والے ہیں۔ پھر تقدیر کے معنے علم النبی کے بھی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اشیاء کا علم جناب النبی کو قبل از ایجاد اور وجود ان اشیاء کے حاصل ہے۔ اس مسئلہ میں بھی آریہ اسلام کے مخالف نہیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۹۴ تا ۹۶) تقدیر کے معنی حسب لغت عرب اور محاورہ قرآن کے کسی چیز کا اندازہ اور مقدار ٹھہرانا ہیں دیکھو آیات مرقومہ الذیل۔ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَةً تَقْدِيرًا ( الفرقان: ٣) إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْتُهُ بِقَدَرٍ ( القمر : (۵۰) -- وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ (الرعد: 9)۔ ٩ - - خدائے تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو موجودات سے ایک خلقت ( نیچر ) اور اندازے پر بنایا ہے۔ اور جیسا اس کی ترکیب اور ہیئت کذائی کا مقتضاء ہو۔ لابد ویسے افعال اور آثار اس سے سرزد ہوتے کا ہیں۔ گویا جیسے اس کے مقدمات ہوں گے لامحالہ ویسا نتیجہ اس سے ظہور پذیر ہوگا ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص ان خدائی حدوں کو توڑ سکے اور ان اصلی خواص کو جو قدرت نے کسی چیز میں خلق کئے ہیں۔ بدوں ان اسباب کے جن کو خالق نے بمقتضائے فطرت ان کا سبب مبطل قرار دیا ہو کوئی شخص کسی اور طرح پر سب مبل دیا اور باطل کر دے سلسلہ کا ئنات کے خالق کا کلام اس مطلب و مقام میں فرماتا ہے۔ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا (فاطر: ۴۴) - وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا (فاطر : ۴۴) مثلاً توحید اور عبادت اور طاعت اور اتفاق اور صحیح کوشش اور چستی کو جن ثمرات اور پھلوں کا درخت بنایا ہے۔ ممکن نہیں کہ وہی پھل اور وہی ثمرات شرک اور ترک عبادت اور بغاوت اور باہمی نفاق اور تفرق اور غلط کوشش اور ستی سے حاصل ہو سکیں۔ جن باتوں کیلئے تریاق کا استعمال ہوتا ہوتا۔ ہے لے اور بنائی ہر چیز پھر ٹھیک کیا اس کو ماپ کر ۔ ۲۔ ہم نے ہر چیز بنائی پہلے ٹھہرا کر۔ سے اور ہر چیز کی ہے اس کے پاس گنتی ۔ ہے سوتو نہ پاوے گا اللہ کا دستور بدلنا ۔ ہے اور نہ پاوے گا اللہ کا دستور ٹلنا ۔