حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 234
حقائق الفرقان ۲۳۴ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ کارخانہ مضبوط علمی رنگ کا بنایا ہے۔ اس میں کوئی حرکت اور سکون عبث اور بے نتیجہ نہیں۔ یہ آیت ہر شخص کو چست اور کارکن بننے کی حد سے زیادہ ترغیب دیتی ہے۔ کس قدر نا بینائی یا اعتراض کرنے کی ٹھیکہ داری ہے کہ ایسے حقائق کو ہنسی اور نکتہ چینی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کاش لوگ سمجھیں کہ اس نئے گروہ کو راست بازی سے کس قدر تعلق ہے اور ان کی عملی حالت کیا ؟ اور تدبیر کا مسئلہ تو ایسا صحیح ہے کہ دیندار اور بے دین اللہ تعالیٰ کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب اس مسئلہ کو ضروری اور واجب العمل یقین کرتے ہیں اور تدبیر کے معنے ہی یہی ہیں کہ تقدیر کے سب اس ہے مطابق تہیہ اسباب کیا جاوے۔ اور امتحان کے اصل معنی ہیں ۔ محنت کا لینا۔ ایک دنیا دار امتحان کیلئے کو اغذ امتحان کے جواب مثلاً دیکھتا ہے تو اس لئے کہ طالب العلم کی محنت کا اس کو پتہ لگ جائے اور محنت کا نتیجہ اس کو دے ۔ اور اللہ تعالیٰ بھی امتحان لیتا ہے۔ یعنی محنت کرانا چاہتا ہے۔ ستی کو نا پسند کرتا ہے۔ ہاں علیم وخبیر ہے جب کوئی محنت کرتا ہے جیسے کوئی محنت کرے ویسی ہی جناب البہی سے محنت کرنے کا بدلہ ملتا ہے۔ گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو اسی امتحان کے معنوں کو ایک حکیم مسلمان نے نظم کیا ہے۔ اور اسی سچے علم کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے ۔ وَ أَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى - ثُمَّ يُجْزِيهُ الْجَزَاء الأولى (النجم: ۴۰ تا ۴۲) اور انسان کو اس کی سعی کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں ملے گا اور یہ پختہ بات ہے کہ اس کی سعی دیکھی جائے گی ۔ پھر اسی کے مطابق واقع اسے پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ه فرمایا فرما یا فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعِيهِ ۚ وَ إِنَّا لَهُ كَتِبُونَ (الانبياء : ۹۵) اور جو شخص نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی سعی کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور ہم اے عزم - آمادگی ۔ ارادہ تیاری مستعدی ۔ ۲ گندم سے گندم ہی اگتی ہے اور جو سے جو تو اپنے عمل کی پاداش سے غافل نہ ہو۔