حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 231

حقائق الفرقان ۲۳۱ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ فرقان کو اللہ کے نام نامی اور اسم گرامی سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن و رحیم ہے۔ رض یہ سورۃ صحابہؓ کی تاریخ ہے۔ ان کے سچے حالات اس میں درج ہیں ۔ سورہ مومنون میں عام مومنوں کو بشارت دی ہے۔ النور میں خلفاء کی خصوصیت بیان فرمائی ہے۔ اس میں صحابہؓ کی تاریخ اور حالات درج ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۴) تَبْرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا - ترجمہ ۔ بڑی بابرکت ہے وہ ذات پاک جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تا کہ وہ تمام جہانوں کو ڈرانے والا ہو۔ تفسیر - نَزَّلَ الْفُرْقَانَ - الفرقان (یوم البدر ) جو دشمنوں کی کمر کو توڑے۔ ۹ آدمی مکہ میں بڑے شریر تھے۔ وہ نو بری طرح ہلاک ہوئے ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۷ ۳ مورخہ ۷ رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۴) بہت برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل فرمایا تاکہ لوگوں کے واسطے ڈرانے والا ہو۔ فرقان اس شئے کو کہتے ہیں جو جدا کرنے والی اور تمیز پیدا کرنے والی ہو۔ جس سے وہ باہمی مخالفت جو دو گروہوں کے درمیان ہو اس کا فیصلہ ہو جائے کہ ان میں سے سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ ہر ایک نبی کو ہمیشہ فرقان عطا کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرقان وہ واقعہ تھا جس میں فرعون اور اس کا لشکر اور اس کا لشکر دریا میں غرق ہوئے ۔ اور حضرت موسی بمعہ اپنی جماعت کے صاف بچ نکلے ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرقان جنگ بدر کا دن تھا جس دن کہ مخالفوں کی زبردست