حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 225

حقائق الفرقان ۲۲۵ سُورَةُ النُّورِ میں ملے کہ نام و نشان تک مٹ گیا۔ وہ ملک جو کبھی کسی کے ماتحت نہ ہوا تھا آخر کس کے ماتحت ہوا؟ اس قوم میں جو توحید سے ہزاروں کوس دور تھی۔ توحید پہنچادی۔ اور نہ صرف پہنچادی بلکہ منوا دی ۔ خوف کے بعد امن عطا کیا۔ ان کے بعد ان کے جانشین حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہوئے ۔ آپ کی قوم جاہلیت میں بھی چھوٹی تھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم میں سے بھی نہ تھے۔ پھر کیونکر ثابت ہوا کہ خلیفہ حق ہیں۔ اسامہ کے پاس ہیں ہزار لشکر تھا۔ اس کو بھی حکم دے دیا کہ شام کو چلے جاؤ ۔ اگر اسامہ کا لشکر موجود ہوتا تو لوگ کہتے کہ ۲۰ ہزار لشکر کی بدولت کا میا بیاں ہوئیں ۔ نواح عرب میں ارتداد کا شور اٹھا ۔ تین مسجدوں کے سوا نماز کا نام ونشان نہ رہا تھا ۔ سب کچھ ہوا۔ پر خدا نے کیسا ہاتھ پکڑا کہ رافضی بھی گواہی دے اٹھا کہ اسد اللہ الغالب کو خوف کی وجہ سے ساتھ ہونا پڑا۔ کیسا خوف پیدا ہوا کہ عرب مرتد ہو گئے بلکہ سب خوف جاتا رہا۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنائے تھے۔ اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ جب لوگ مامور ہو کر آتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی سے۔ اس کے ہاتھ کا تھا منا یہ دکھلا دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں محفوظ ہوتا ہے۔ یا د رکھو۔ جس قدر کمزوریاں ہوں وہ سب معجزات اور الہی تائید میں ہیں کیونکہ ان کمزوریوں ہی میں تائید الہی کا مزہ آتا ہے۔ اور معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کی دستگیری کیسا کام کرتی ہے۔ امیر دولت کے گھمنڈ سے۔ مولوی علم کے گھمنڈ سے۔ کوئی منصوبہ بازیوں اور حکام کے پاس آنے جانے کے گھمنڈ سے اگر کامیاب ہوتا ہے تو خدا کے بندے خدا کی مدد سے کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کے پاس سرمایہ علوم اور سفر کے وسائل نہیں ہوتے ۔ مگر عالم ہونے کی لاف و گزاف مارنے والے ان کے سامنے شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے پاس کتب خانے اور لائبریریاں نہیں ہوتیں ۔ وہ حکام سے جا کر ملتے نہیں ۔ مگر وہ ان سب کو نیچا دکھا دیتے ہیں ۔ جو اپنے رسوخ ۔ اپنے معلومات کی وسعت کے دعوے کرتے ہیں۔ برادری اور قوم اس کی مخالفت کرتی ہے۔ مگر آخر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح ان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ یہی ہمیشہ ان کی پہچان ہوتی ہے۔ غرض راستباز اور ما اور مامور کی شناخت کے یہ نشان خدا تعالیٰ نے خود ہی بیان فرما دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔