حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 224
حقائق الفرقان ۲۲۴ سُورَةُ النُّورِ ایک نافرمانی سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۴) دنیا کے مذاہب کی حفاظت کیلئے مؤید من الله ، نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے ۔ اسلام کے اندر کیسا فضل اور احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں میں دعاؤں کے مانگنے والا ۔ خدا کی درگاہ میں ہو شیار انسان ۔ شرارتوں اور عداوتوں کے بدنتائج سے آگاہ ۔ بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے۔ جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں میں بے سبھی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفاء پیدا کرے گا۔ جس کے سبب سے کل دنیا میں اسلام فضیلت رکھتا ہے یہ امر مشکل نہیں ہوتا کہ ہم اس انسان کو کیونکر پہچانیں ۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔ اس کی شناخت کے لئے ایک نشاں منجملہ اور نشانوں کے خدا تعالیٰ نے یہ مقرر فرمایا ہے کہ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ ۔ خدا فرماتا ہے کہ ہمارے مامور کی شناخت کیا ہے۔ اُس کے لئے ایک تو یہ نشان ہے کہ وہ بھولی بسری متاع جس کو خدائے تعالیٰ پسند کرتا ہے اس سے لوگ آگاہ ہوں اور غلطی سے چونک اٹھیں اور اسے چھوڑ دیں۔ اس کو پورا کرنے کیلئے اس کو ایک طاقت دی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بہادری اور نصرت عطا ہوتی ہے۔ اس بات کے قائم کرنے کیلئے جس کیلئے اس کو بھیجا ہے قسم قسم کی نصرتیں ہوتی ہیں ۔ کوئی ارادہ اور سچا جوش پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی مدد کا ہاتھ ساتھ نہ ہو۔ بڑی بڑی مشکلات آتی ہیں اور ڈرانے والی چیزیں آتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان سب خوفوں اور خطرات کو امن سے بدل دیتا ہے اور دور کر دیتا ہے۔ ایک معیار تو اس کی راست بازی اور شناخت کا یہ ہے۔ اب ذرا بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت پر غور کرو۔ جب آپؐ نے دعوت حق شروع کی ۔ تنہا تھے۔ جیب میں روپیہ نہ تھا۔ باز و بڑے مضبوط نہ تھے ۔ حقیقی بھائی کوئی نہ تھا۔ ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ چکا تھا اور ادھر قوم کو دلچسپی نہ تھی۔ مخالفت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مگر خدا کے لئے کھڑے ہوئے۔ مخالفوں نے جس قدر ممکن تھے ۔ دکھ پہنچائے ۔ جلاوطن کرنے کے منصوبے باندھے۔ قتل کے منصوبے کئے۔ کیا تھا جو انہوں نے نہ کیا۔ مگر کس کو نیچاد دیکھنا پڑا۔ آپؐ کے دشمن ایسے خاک