حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 202
حقائق الفرقان ۲۰۲ سُورَةُ النُّورِ ٣٠ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ تَكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ - ترجمہ ۔ اس میں تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ چلے جایا کرو غیر آباد گھروں میں جس میں تمہارے فائدہ کا اسباب رکھا ہو اور اللہ جانتا ہے جو تم دکھاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور آئندہ دکھاؤ گے یا جو تم چھپاتے ہو۔ تفسیر۔ ہاں ایسے غیر آباد گھروں میں جہاں کسی کی سکونت نہیں اور تمہارا وہاں اسباب رکھا ہے۔ بدون اطلاع و اجازت بھی جانا روا ہے۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تم کسی گھر میں بھلائی کو جاتے ہو یا شرارت کو۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۸) ۳۱ ٣١ - قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ - ترجمہ ۔ ایماندار مردوں سے کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی فرجوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے واسطے زیادہ پاک ہے۔ وہ جو کرتے ہیں اللہ اس سے خبردار ہے۔ تفسیر ۔ تو کہہ دے ایمان والوں کو کہ آنکھوں کو نیچا رکھا کریں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ نہایت پسندیدہ بات ہے۔ اور جو کچھ اپنی زبانوں سے کہتے اور دل سے مانتے اور اعضاء سے لیتے ہو سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۸) قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا ۔ جب ظاہری آنکھ لے جانا جائز نہیں تو باطنی آنکھ سے ان کے حالات کی تفتیش کیونکر جائز ہو۔ ) تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۹) يَغْضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ۔ پولیس بھی شرارتوں کے روکنے کیلئے کسی حد تک مفید ہے۔ اور ضرور چاہیے۔ لیکن بعض ایسے گناہ ہیں کہ پولیس اس میں کچھ نہیں کر سکتی ۔ وہاں شریعت کام دیتی ہے۔ ہم نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں کہ ایک ہی نگاہ میں ہلاک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لے بہت سے ایے مومنوں سے کہہ دو۔ نگاہیں نیچی رکھیں ۔ میں تو اسی لئے برقع کا دشمن ہوں ۔ کیونکہ برقع والی آنکھ