حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 200 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 200

حقائق الفرقان ۲۰۰ سُورَةُ النُّورِ جو لوگ بکتے پھرتے ہیں اور نیکوں ہی کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ تفسير - الخبیٹی ۔ بری باتیں بروں سے منسوب ہوتی ہیں تشہید المطاعن ایک کتاب شیعوں نے بنائی ہے اس کے جواب میں ایک آیت کافی ہے ۔ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أُوذُوا فِي سَبِيلِي وَ قُتَلُوا وَقُتِلُوا لَا كَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَّاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ ( ال عمرا (ال عمران : ۱۹۶) ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۹) وہ جن کی فطرتیں بہت ہی پاکیزہ ہیں مگر قومی رواجوں اور بے پردگیوں میں عورتوں کو خطرناک آزادیوں میں دیکھتے ہیں تو گھبرا کر بہشتی بیبیوں سے بھی نفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ مگر جن کو یقین ہے له الطيبتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَتِ ( النور : ۲۷) اور اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کا اعتقاد واقعی ہے کہ جنت پاکیزگی اور پاکبازوں کی جگہ ہے۔ وہاں کے پڑوسی بھی طیب، بیبیاں بھی طیبہ آپ بھی طیب اور ضعف و پیری کا نام نہیں۔ نہ ان خطرات کو کوئی موقع ہے جو صدمات اور امراض سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور افکار اور افلاس، کابلی اور سستی ترقیات کے مشکلات اور حرجوں اور کسی قسم کے انفعالات نفسانیہ کا موقع وہاں نہ ہوگا۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۵۷) ۲۸ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَ تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - ترجمہ ۔ اے ایماندارو! نہ جایا کرو دوسروں کے گھروں میں اپنے گھروں کے سوا جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ تو تمہارے لئے بہت اچھی بات ہے تا کہ بڑے آدمی بن جاؤ۔ ا جن لوگوں نے ہمارے لئے (اپنے) دیس چھوڑے اور (ہماری ہی وجہ سے ) اپنے گھروں سے نکالے اور ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے ہم ان کی خطاؤں کو ان (کے نامہ اعمال میں ) سے ضرور محو کر دیں گے اور ان کو ایسے باغوں میں لے جائیں اور داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں ( پڑی) بہہ رہی ہیں اللہ کے ہاں سے ( یہ ان کے کئے کا ) بدلہ (ہے) اور اچھا بدلہ تو اللہ ہی کے ہاں ہے۔