حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 194

حقائق الفرقان ۱۹۴ سُورَةُ النُّورِ جامع ہے۔ کسی صحابی نے اس بی بی سے پوچھا کہ آنحضرت تہجد کس طرح پڑھتے تھے۔ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا۔ ایک شخص نے اس بی بی سے آنحضرت کی سوانح عمری دریافت کی ۔ فرمایا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن یعنی قرآن اگر کوئی قول ہے۔ تو نبی کریم اس کا عامل ہے۔ دیکھو ایک لفظ میں نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اس بی بی نے امت پر بڑا احسان کیا ہے۔ حضرت عمر جیسے جلال والے انسان کا مقابلہ قرآن کریم سے ہی کرتی تھی ۔ اس بی بی پر لوگوں نے اتہام لگایا تھا۔ ان کے گلے میں ایک ہار تھا۔ کس چیز کا۔ سلیمانی منکے ۔ اور کچھ لونگ اس میں پروئے ہوئے تھے۔ وہ لشکر سے باہر پاخانہ پھرنے کو گئیں تو وہاں ہارٹوٹ پڑا اس کو چنے لگیں ۔ یہ نو برس کی بیاہی گئیں۔ اور ۱۸ برس کی بیوہ بھی ہو گئیں تھیں اور ۶۳ برس کی عمر میں فوت ہو گئیں تھیں۔ اس عرصہ میں مسلمانوں کے بہت انقلاب دیکھے ۔ چونکہ بہت ہلکی پھلکی تھیں ۔ ساربانوں نے ان کا ڈولا اونٹ پر کس دیا اور چل دیئے۔ کسی کو معلوم نہ ہوا کہ آپ اس میں ہیں کہ نہیں ۔ جب یہ جنگل سے واپس اس مقام پر آئیں تو دیکھا کہ قافلہ چلا گیا ہے۔ جوانی کے ایام تھے نیند نے غلبہ کیا اور سوگئیں ۔ ایک شخص ہمیشہ لشکر میں پیچھے رہتا ہے کہ گری پڑی چیز اٹھا لاوے۔ چنانچہ صفوان صحابی اس کام پر مامور تھا۔ جب اس نے دور سے بی بی کو پڑا ہوا دیکھا تو سمجھا کہ کوئی عورت فوت ہوگئی ہے۔ اور یہیں چھوڑ کر قافلہ چلا گیا ہے اور زور سے انا للہ پڑھا۔ آواز سن کر آپ جاگ اُٹھیں۔ پھر صفوان نے ان کو اونٹ پر سوار کیا اور خود آگے آگے ہوا۔ اور دو پہر کو شکر میں لے کر پہونچا لیکن بہت سارے شریر اور بدگمان لوگوں نے کہا کہ شاید کسی بدی کی وجہ سے بی بی پیچھے رہ گئی ہیں۔ جب یہ خبر آ نحضرت کو پہونچی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان دنوں میں بیمار تھیں۔ ان دنوں گھروں میں پاخانہ نہیں ہوتا تھا۔ ایک روز آپ باہر پاخانہ کو گئیں تو ایک بڑھیا ساتھ تھی ۔ ساتھ والی بڑھیا راستہ میں گر پڑی ( عورتیں بات دل میں نہیں رکھ سکتیں ) گر کر اپنے بیٹے کو سخت گالی نکالی ۔ بی بی نے منع کیا غرض تین دفعہ اسی طرح کیا اور تین دفعہ بی بی نے منع کیا۔ تو کہنے لگی کہ تجھے خبر نہیں۔ تجھ پر