حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 193
حقائق الفرقان ۱۹۳ سُورَةُ النُّورِ جائے تو کیا کرنا چاہیے اور خود اتہام لگانے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے۔ دوم ۔ حضرت عائشہ کی بریت خدا کی پاک کتاب سے ثابت ہو گئی۔ اور اس طرح حضرت ام المومنین کو یہ فخر حاصل ہوا کہ قرآن شریف میں ان کا ذکر خیر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ اور جو لوگ منافق تھے اور ان کے دلوں میں کبھی تھی اور کمزوری تھی وہ بھی ظاہر ہو گئے ۔ اور مومنوں کو آئندہ کے واسطے احتیاط مد نظر ہوگئی کہ ایسے معاملات میں جلدی سے منہ نہیں کھولنا چاہیے بلکہ بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه (۴) ۱۳ - لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنْتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَ قَالُوا هَذَا افْكُ مُّبِينٌ - ترجمہ ۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے سنا تھا گمان کرتے ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں اپنے لوگوں کے حق میں بہتری کا اور کیوں نہ بول اٹھے کہ یہ جھوٹی تہمت ہے صریح ۔ تفسیر کیوں ایسا نہ کیا گیا کہ جب تم نے سنا اس بات کو تو مومن مردوں اور عورتوں کو لازم تھا کہ اپنے جی میں نیک ظن رکھتے اور کہتے کہ یہ تو ظاہر جھوٹی تہمت ہے۔ اس آیت میں مومن مردوں اور عورتوں کو تمدن اور اخوت کا ایک بڑا ضروری اور امن قائم کرنے والا اصول سکھایا گیا ہے کہ کسی پر بدظنی کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ اپنے بھائیوں پر نیک ظن قائم رکھیں اور جب تک پوری تحقیقات نہ ہو لے کسی کے حق میں کوئی کلمہ بد استعمال کرنے کی جرات نہ کریں۔ ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه (۴) خدا تعالیٰ نے اس سورت شریف میں فرمایا ہے کہ زانیہ کی سزا کے وقت نیک لوگ موجود ہوں اور اس پر رحم قریب بھی نہ آوے ۔ وہاں حضرت عائشہ صدیقہ کا ذکر فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی لی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی کنواری بی مسلم کی بھی یہی کنواری بی بی ہیں۔ ان کا درجہ میرے نزدیک حضرت خدیجہ سے کچھ بھی کم نہیں ۔ میں تم کو ایک نمونہ سناتا ہوں۔ یہ ایک ایسی ذہین، ذکی اور نبی کریم کے چال چلن پر گہری نظر کرنے والی بی بی ہے کہ عقل حیران ہو جاتی ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ معرفت کا بھرا ہوا اور