حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 190
حقائق الفرقان ۱۹۰ سُورَةُ النُّورِ تہمت لگانا قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جب کبھی کوئی شخص کسی عورت کے متعلق زنا کار کا لفظ بولے تو ضرور ہے کہ اس سے چار گواہ طلب کئے جاویں۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ جو شخص چار گواہ نہیں لا سکتا اور یونہی کسی کو بدنام کرتا ہے۔ اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو اپنی کوڑے مارے جائیں اور پھر کسی معاملہ میں اس کی گواہی قبول نہ کی جائے ۔ یہ ہر دو حکم نہایت ہی غور اور توجہ کے لائق ہیں۔ عموماً لوگوں کی عادت ہے کہ صرف خیالی ا طور پر بدظنی کر کے چہ جائیکہ رؤیت ہو اور پھر چار گواہ بھی ہوں ۔ عوام میں کہنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں مرد یا عورت نے زنا کیا۔ پھر ایسی باتوں کو لوگ اپنی مجلسوں کا شغل بناتے ہیں۔ خدا کے غضب سے ڈرنا چاہیے اور ایسی بات منہ پر نہیں لانی چاہیے۔ کیونکہ خدا نے ایسے آدمی کا نام فاسق رکھا ہے۔ جو بغیر چار گواہوں کے کسی پر اتہام لگاتا ہے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحہ (۴) - إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا ۚ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ ۔ ہاں جنہوں نے توبہ کر لی بعد ایسے کام کے اور سنور گئے تو بے شک اللہ غفور الرحیم ہے۔ تفسیر۔ مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ جو لوگ ایسی شرارت کے بعد اپنی اصلاح کریں یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان ظاہر ہو جاوے کہ یہ اب اس طرز اور طریقہ کا آدمی نہیں رہا۔ اور نیک بن گیا ہے تو پھر دوسرے لوگوں کی طرح اس کی شہادت بھی قبول کی جاوے۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم نادان جہال کی طرح کینہ ور نہیں ۔ اس کے احکام ہماری درستی اور اصلاح کے واسطے ہیں ۔ مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَ امَنتُم (النساء: ۱۴۸) مذکورہ بالا حکم ان اشخاص کے واسطے ہے جو کسی غیر مرد یا غیر عورت کے متعلق زنا کی بابت بولے لیکن اپنی بیویوں کے متعلق ایسے فعل کے دیکھنے اور ظاہر کرنے کے بارے میں مفصلہ ذیل احکام ہیں ۔ ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخه ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه (۴) لے اللہ کیا کرے گا تم کو عذاب دے کر جب تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان دار ۔