حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 180

حقائق الفرقان ۱۸۰ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ اله ۔ وہ ہے جو ہر قسم کا ذاتی کمال رکھتا ہے اور اس کیلئے کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ے رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۰) ۹۴ تا ۹۶ - قُلْ رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِي مَا يُوعَدُونَ - رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَ إِنَّا عَلَى أَنْ تُرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَدِرُونَ - ترجمہ ۔ تو کہہ دے اے میرے رب ! اگر تو مجھ کو دکھا دے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ تو اے میرے رب ! مجھے ظالم قوموں میں نہ ملا لینا ۔ اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ تجھے دکھلا دیں جوان سے وعدہ کر رہے ہیں۔ تفسیر - رَبِّ إِمَّا تُرِينِي مَا يُوعَدُونَ - انبیاء علیھم السلام کس طرح فتح مند ہوتے ہیں ان کا سر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دعا کرتے ہیں ۔ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ۔ اس دعا پر خوب غور کرو کہ کس قدر خوف کا مقام ہے۔ نبی کہتا ہے کہ ان پر جو عذاب آئے میں بھی ان ہی میں شامل نہ ہو جاؤں ۔ اللہ تعالیٰ بے باکی سے ناراض ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ بڑے بڑے دعوے کر بیٹھتے ہیں اور آخر خطا کھاتے ہیں ۔ اس میں یہ پیشگوئی بھی ہے کہ اہلِ مکہ پر عذاب کے وقت نبی کریم ان میں موجود نہ ہوں گے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۰-۱۸۱) جب ہم یہ آیات پڑھتے ہیں ۔ تو یہ دو باتیں کھلتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کی ذات کس قدر غناء میں پڑی ہوئی ہے کہ وہ انبیاء جن کے مبارک وجود کی خاطر بعض اوقات تمام ملک کو بھی غرق کر دیتا ہے۔ اس کے حضور میں عاجزی سے گڑ گڑانے کے محتاج ہیں اور دعا کی احتیاج سے خالی نہیں ۔ اب دیکھئے حضرت نبی کریم صلعم کی خاطر عذاب آتا ہے۔ مگر دوسری جانب آپ ہی کے منہ سے کہلواتا ہے۔ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ یعنی اے میرے رب مجھے ظالموں کی قوم میں نہ گردانیو۔ اس آفت میں میں نہ مبتلا ہو جاؤں۔ دوم یہ کہ وعدہ ہو یا وعید وہ ضرور ٹل سکتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ اِنَّا عَلَى أَنْ تُرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَدِرُونَ ۔ یعنی ہم جو ان کو وعدہ دیتے ہیں۔ اس کے