حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 177

حقائق الفرقان ۱۷۷ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ کیونکہ وہ نکتہ نواز اور نکتہ گیر ہے۔ ۔ حدیث حدیث شریف شر میں آیا ہے ۔ جنابہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی کرتی ؟ ہیں کہ بدیاں کرتے ہوئے خوف کریں فرمایا نہیں نہیں۔ نیکیاں کرتے ہوئے خوف کرو۔ جو نیکیاں کرنے کی ہیں کرو۔ اور پھر حضور النبی میں ڈرتے رہو کہ ایسا نہ ہو کہ عظیم و قدوس خدا کے حضور کے لائق ہیں یا نہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَبِقُونَ کے مصداق ہوتے ہیں یعنی اول اور آخر میں خشیت ہو ۔ فعل اور ترک فعل اخلاص اور صواب کے طور پر ہوں اور وہ بھلائیوں کے لینے والے اور دوسرے سے بڑھنے والے ہیں ۔ (الحکم جلد ۳ نمبر ۱۴ مورخه ۱۹ را پریل ۱۸۹۹ء صفحه ۴) - وَلَا تُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَيْنَا كِتَبٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ - ترجمہ ۔ اور ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے موافق اور ہمارے پاس ایک محفوظ تحریر ہے جو سچ سچ بولتی ہے اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔ تفسیر وسوسہ شیطانی یہ بھی آ جاتا ہے کہ یہ راہ کٹھن ہے کیونکر چلیں گے خدائے تعالیٰ خود ہی اس وسوسہ کا جواب دیتا ہے لا تُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ ہم نے جو اعمال کے کرنے کا حکم کے کرنے کا حکم دیا ہے اور نواہی سے روکا ہے وہ مشکل نہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ عدم استطاعت پر حج کا حکم ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوامر و نواہی ایسے ہیں کہ عمل کر سکتا ہے اور ان سے باز رہ سکتا ہے۔ اور یہ امر بھی بحضور دل یا د رکھو کہ بعض اعمال بھول جاتے ہیں۔ جناب الہی کے ہاں بھول نہیں بلکہ فرمایا وَلَدَيْنَا كِتَبٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۔ یا درکھو جناب الہی میں اعمال محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ خدا کے ہاں ظلم نہیں ہوتا۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۴ مورخه ۱۹ را پریل ۱۸۹۹ صفحه ۴) ۶۴ ، ۶۵ - بَلْ قُلُوبُهُمْ فِي غَيْرَةٍ مِّنْ هُذَا وَ لَهُمْ أَعْمَالُ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَمِلُونَ - حَتَّى إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْتَرُونَ - ترجمہ ۔ بلکہ ان کے دل قرآن سے غفلت میں ہیں اور اس کے سوا ان کے بہت سے کرتوت ہیں جس کو وہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ہم پکڑ لیں گے ان کے آسودہ لوگوں کو عذاب میں تو فوراً یہ