حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 175

حقائق الفرقان ۱۷۵ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ مولی کریم ۔ رحمان و رحیم مولی ۔ ان آیات میں انسان کو ان راہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اس کو ہر ایک قسم کے سکھوں کی طرف لے جاتے ہیں اور اپنے ہم چشموں اور ہم عصروں میں معزز و موقر بنا دیتے ہیں۔ انسان فطرتی طور پر چاہتا ہے کہ ہر ایک قسم کے سکھوں اور آراموں اور بھلی باتوں کو حاصل کرے اور پھر ان میں سب سے بڑھ کر رہنا چاہتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے متعلقین خوش و خورسند ہیں اور لوگوں کو بھلائی کی طرف متوجہ پاتا ہے۔ اس کے دل میں یہ بات پیدا ہوتی ہے ماتا کہ فلاں بھلائی میں سعادت مند قدم رکھا ہے اور فلاں شخص نے بھی رکھا ہے۔ پس میں سب سے بڑھ کر سبقت لے جاؤں ۔ غرض عام طور پر انسان فطرہ ایک کمپی ٹیشن سے میں لگارہتا ہے اور ساتھ والوں سے سر برآوردہ ہونے کا آرزومند ہوتا ہے ۔ بچے چاہتے ہیں کہ کھیل میں دوسری پارٹی سے بڑھ کر ۔ رہیں اور جیت جاویں۔ عورتیں کھانے ، پہننے ، لباس وزیورات میں چاہتی ہیں کہ اپنی ہم نشینوں سے بڑھ کر رہیں ۔ پس یہ خواہش اور آرزو جو فطرتی طور پر انسان کے دل میں پائی جاتی ہے۔ اس کے پورا کرنے کے اسباب اور وسائل قرآن کریم میں اس مقام پر رحیم کریم مولی بیان فرماتا ہے اور وہ چند ایک اصول پر مشتمل ہے۔ پہلا اصل: انسان غور کرے کہ اس کے دل میں اپنے سے بڑے کا ڈر ہوتا ہے۔ ادنی ادنی کام والے لوگ نمبر دار کا اور نمبردار تحصیلدار کا اور تحصیلدار حکام بالا دست کا ڈر رکھتے ہیں۔ ماتحت اگر افسروں کا ڈر دل میں نہ رکھیں تو وہ اپنے فرضِ منصبی کو اس خوبی اور صفائی سے نہ کریں ۔جس سے وہ اس ڈر کی حالت میں کرتے ہیں ۔ اب اس اصل کو زیر نظر رکھ کر مولیٰ کریم فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نیکیوں اور بھلائیوں کے کمپیٹیشن اور مقابلہ میں سرفراز ہوتے ہیں ۔ سب سے پہلے وہ ہر ایک کام کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا نگران ہے اور ان کے ہر فعل، کھانے، پینے، دوستی، دشمنی ، بغض و عداوت ، لین دین ۔ غرض تمام معاملات میں ان کو دیکھتا ہے۔ ا مقابلہ یا مُسَابَقَه - ( مرتب)