حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 171

حقائق الفرقان ۱۷۱ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ فَارَ التَّنُّور سحر کا وقت آگیا۔ زمین کے اوپر پانی آگیا۔ عذاب زور سے آ گیا۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۸) شریروں کی شرارت اور تکذیب حد سے گزرگئی تو چونکہ مامور من اللہ بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ اعداء کی تکذیب اور نہ صرف تکذیب بلکہ مختلف قسم کی تکالیف خود اسے اور اس کے احباب کو دی جاتی ہیں۔ تو وہ بے اختیار ہو کر لو كَانَ الْوَبَاءُ المُتَبَر کہہ اٹھتا ہے ایسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کہا رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ ۔ اے میرے مولی ! میری مدد کرو۔ میری ایسی تکذیب کی گئی ہے جس کا تو عالم ہے۔ جب معاملہ اس حد تک پہونچا تو خدا کی وحی یوں ہوتی ہے آنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاعْيُنِنَا وَ وَحِينَا ہماری وحی کے موافق ہماری نظر کے نیچے ایک کشتی تیار کرو اور اپنے ساتھ والوں کو بھی ساتھ لے لو۔ تو ہم تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو بچالیں گے۔ اور شریر مخالفوں کو غرق کر دیں گے۔ چنانچہ حضرت نوح نے ایک کشتی تیار کی اور اپنی جماعت کو لے کر اس میں سوار ہوئے ۔خدا کا غضب پانی کی صورت میں نمودار ہوا۔ وہی پانی حضرت نوح کی کشتی کو اٹھانے والا ٹھہرا۔ اور اسی نے طوفان کی صورت اختیار کر کے مخالفوں کو تباہ کر دیا۔ اور نتیجہ نے حضرت نوح علیہ السلام کی سچائی پر مہر کر دی۔ غرض یہ آسان پہچان ہے راست باز کی ۔۔۔۔۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنی خاص حفاظتوں میں لاتا ہے۔ ارضی بیماریوں اور دکھوں سے بچاتا ہے۔ آسمانی مشکلات سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور اسکی نصرت فرماتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو سچے طور سے اس کا ساتھ دیتے ہیں یا یوں کہو کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو کر وہی بن جاتے ہیں ۔ سچا تقوای اور حقیقی ایمان حاصل کرتے ہیں۔ اور مامور کا ادھورا نمونہ بھی بن جاتے ہیں تو مقتدا کی عظمت و ترقی اور نصرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کو بھی شریک کر لیتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۷) ٣٠ - وَقُلْ رَّبِّ انْزِلُنِي مُنْزَلًا مُبْرَكًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ - ترجمہ ۔ اور کہنا اے میرے رب ! ہمیں اتار نا مبارک منزل میں اور تو ہی بہتر مقاموں میں اتارنے والا ہے۔ تفسیر - وَقُلْ رَبِّ انْزِلْنِی تعلیم سکھائی ۔ دکھ سے نجات پا کر بھی انسان دعا سے غافل نہ ہو۔ آجکل کل قوموں نے دعا کو چھوڑ دیا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۹) اے کاش! ہلاکت خیز و با ہی آجائے۔