حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 170
حقائق الفرقان ۱۷۰ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ اقوال میں پاک لوگوں کے بیان میں اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہ اس نے تقول علی اللہ کیا ہو اور بچ گیا ہو۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مفتری بھی پیش نہ کر سکیں گے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۶،۵ ) ۔۔۔۔۔ میں جب اپنے زمانہ کے راست باز کے مخالفوں اور حضرت نوح علیہ السلام کے مخالفوں کے حالات پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس زمانہ کے مخالفوں کی حالت پر بہت رحم آتا ہے کہ یہ ان سے بھی جلد بازی اور شتاب کاری میں آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔ وہ نوح علیہ السلام کی تبلیغ اور دعوت کو سن کر اعتراض تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّی حِيْنِ چندے اور انتظار کر لو۔ مفتری ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کا جھوٹ خود اس کا فیصلہ کر دے گا۔ مگر یہ شتاب کار نادان اتنا بھی نہیں کہہ سکتے ۔ العجب ! ثم العجب !! الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ ء صفحہ ۶۔۷) ۲۸،۲۷ - قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُكَ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ أَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ۔ ترجمہ - نوح نے کہا اے میرے رب ! میری مدد فرما کیوں کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔ تو ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک کشتی بنا اور ہمارے ہی حکم سے اور جب ہمارا حکم آئے اور جوش مارے دن چڑھے یا ابلنے لگے تنور تو کشتی میں بٹھا لینا ہر ایک میں سے دو دو نر و مادہ کا جوڑا اور تیرے گھر والوں کو مگر اس کو نہیں جس کے لئے پہلے حکم ہو چکا ہے ڈوبنے کا اور نہ کچھ مجھ سے پوچھنا ان ظالموں کے بارہ میں کیونکہ وہ ضرور ڈبائے جاویں گے۔ تفسير - التنور - (۱ ) ۔ وہ مکان جس میں روٹیاں پکاتے ہیں (۲)۔ زمین کے اوپر کا حصہ ۔ اونچی جگہ ۴۔ جہاں سے چشمہ نکلے ۵۔ پچھلی رات کے بعد صبح صادق کے وقت کو بھی ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ے رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۹) کہتے ہیں۔