حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 167
حقائق الفرقان ۱۶۷ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ سلف کے خلاف ہے۔ یہ اجماع امت کے مخالف ہے۔ فلاں بزرگ کے اقوال میں کہاں لکھا ہے؟ فلاں مفسر کے مخالف ہے وغیرہ وغیرہ یہی صدائیں ہمارے کان میں آ رہی ہیں ۔ ورنہ اگر غور کیا جاتا اور ذرا ٹھنڈے دل سے ان باتوں پر توجہ کی جاتی جو خدا کا مامور لے کر آیا تھا اور سنن انبیاء کے موافق اس کی تعلیم کو دیکھا جاتا تو آسانی کے ساتھ یہ عقدہ حل ہو سکتا تھا ۔ مگر افسوس ان نادانوں نے جلد بازی سے وہی کہا جو پہلے معترضوں اور مخالفوں نے کہا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں انبیاء ورسل کے مخالفوں کے اعتراضوں کو پڑھ کر مجھے بڑی عبرت ہوئی ہے۔ اور خدا کے فضل سے میں اس مقام پر پہونچ گیا ہوں کہ میرے سامنے اب کسی نشان یا اعجاز کی ضرورت میرے ماننے کیلئے نہیں رہی۔ اسی لئے تمہیں میں یہ اصول سمجھاتا ہوں کہ مامور من اللہ جب آتے ہیں تو کیا لے کر آتے ہیں؟ اور ان پر کس قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں؟ میں نے بارہا معترضوں اور مخالفوں سے اب بھی پوچھا ہے کہ وہ کوئی ایسا اعتراض کریں جو کسی پہلے نبی پر نہ کیا گیا ہو؟ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ کوئی نیا اعتراض پیش نہیں کرتے۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ آج جو لوگ حضرت اقدس کی مخالفت میں اُٹھے ہیں۔ ان کے معتقدات کا تو یہ حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اصل غرض اور قرآن شریف کی تعلیم کا خاص منشاء دنیا میں سچی توحید کا قائم کرنا تھا۔ مگر لوگوں کو پوچھو تو وہ مسیح کو خالق مانتے ہیں گخَلْقِ اللہ ۔ شافی مانتے ہیں۔ عالم الغیب یقین کرتے ہیں۔ مخینی اُسے مانتے ہیں ۔ حلال و حرام ٹھہرانے والا اُسے سمجھتے ہیں۔ قدوس وہ ہے۔ ساری دنیا کے راستبازوں حتی کہ اصفی الاصفیاء سرور انبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تک کو مس شیطان سے بری نہیں سمجھتے۔ مگر مسیح کو بری کرتے ہیں ۔ مسیح خلاء میں ہے۔ زندہ ہے مگر باقی سارے نبی فوت ہو چکے۔ اس کے آئندہ مرنے کے دلائل بھی بودے۔ کمزور اور ایسے الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ان پر بہت سے اعتراض ہو سکتے ہیں۔ غرض وہ کونسی صفت خدا میں ہے جو مسیح میں نہیں مانتے؟ اس پر بھی جو ایک خدا کے ماننے کی تعلیم دیتا ہے اور خدا کی عظمت و جلال کو اسی طرح قائم کرنا چاہتا ہے جیسے انبیاء کی فطرت میں ہوتا ہے۔ اس پر اعتراض کیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو کہا جاتا ہے کہ ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام - مرتب