حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 147
حقائق الفرقان ۱۴۷ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ اس قسم کی باتوں سے پر ہیز کرو۔ جب تک لغویات سے نہیں بچتے ہو کامیابی اور فتح مندی تمہیں حاصل نہیں ہو سکتی ۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مومن کی دوسری شان یہ ہے کہ لغویات سے بچے ۔ جیسے نطفہ مضر اشیاء سے بچتا ہے ۔ مومن نمازیں پڑھتا ہے اور نمازوں میں خشوع سے کام لیتا ہے اور پھر لغویات سے بچتا ہے کیونکہ اگر وہ لغو را گر وہ لغویات سے نہ بچے تو جناب الہی سے تعلق نہیں ہوتا۔ ایک بات اور یاد رکھو دنیا کا ایک عام نظارہ ہے کوئی پھل، پتا ، درخت ٹہنی اللہ تعالیٰ نے لغو پیدا نہیں کی ۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا (آل عمران : (۱۹۲) بلکہ حق و حکمت سے بھر پور ہے۔ جن لوگوں نے حق و حکمت کی اس مخلوق سے کام لیا انہوں نے مالی اور مادی فائدہ اٹھایا ۔ یہ مضمون بھی وسیع ہے اور تمام علوم پر حاوی ہے ۔ دیکھو ایک قوم نے ان تمام اشیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں حقائق کے رنگ میں دیکھا اور ان کے خواص وصفات معلوم کر کے کس قدر فوائد ان سے حاصل کئے ۔ آئے دن کی ایجادات اور مادی ترقیاں اسی کا نتیجہ ہے اور وہ تمام دنیا پر حکومت کر رہی ہے۔ لیکن جنہوں نے انادی سمجھ کر چھوڑ دیا وہ مفلس اور محکوم ہے۔ پس جہاں تم لغو سے اعراض کرو وہاں حقائق الاشیاء کو ترک نہ کرو۔ اس واسطے جناب الہی کے حضور جب کہا جاتا ہے لغو سے بچو تو اس کی بڑی بڑی شاخیں یہ سمجھی جاتی ہیں ۔ خیالات بے جا، بے ہودہ ارادے، دوست بے ہودہ اسی میں بے ہودہ کتابیں بھی داخل ہیں ۔ بیہودہ دوست اسی طور پر دوست بنتے ہیں کہ انسان سمجھتا ہے کہ ان کا وجود ہمارے دین دنیا کے لئے مفید ہے لیکن دراصل وہ سخت مضر ہوتے ہیں اور وہ دین و دنیا دونوں کو غرق کر دیتے ہیں ۔ میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ تم میں ایمان ہو ۔ یہ حالت نطفہ سے مشابہ ہے کیونکہ نطفہ تھوڑی سی چیز ہی کو کہتے ہیں پھر جیسے نطفہ رحم سے تعلق رکھتا ہے اور اسے آئندہ ترقی اور نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ رحم سے تعلق رکھے ۔ اسی طرح مومن کو جناب النبی سے تعلق رکھنا چاہیے اور وہ تعلق نماز سے قائم رہتا ہے اور نماز میں خشوع ہو تو ترقی کے ا اے ہمارے پروردگار تو نے ( اس کارخانہ عالم کو ) بے فائدہ ( تو ) نہیں بنایا۔