حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 124

حقائق الفرقان المولد سُوْرَةُ الْحَجِّ ۴۰- أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمُ لَقَدِيرُ - ترجمہ ۔ اجازت ہو چکی ہے ان کو جہاد کی جن سے لڑائی کی جاتی ہے اس لئے کہ اُن پر ظلم ہوا اور بے شک اللہ مظلوموں کی مدد کرنے پر بڑا قادر ہے۔ تفسیر اجازت دی گئی اُن لوگوں کو جن سے لڑائی کی گئی اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ انہیں دشمن پر غالب کر دینے پر قادر ہے ۔ اسلام کا خدا تعالیٰ نے دونوں طرح کا غلبہ دکھانا چاہا ہے ایک وقت تھا جب دشمن نے اسلام کے استیصال کے لئے تلوار اٹھائی۔ مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تو اسلام نے مسلمانوں کو بغاوت سے روک دیا کہ غدر نہ کرنا۔ اس ملک سے نکل جاؤ جہاں تکلیف ہے اس لئے مکہ معظمہ کا ملک چھوڑ دیا گیا۔ جب دشمن کو اس پر صبر نہ آیا اور اس نے تعاقب کیا تو آخر اسلام نے تلوار اٹھائی اور کامیاب ہو گیا۔ پھر اس وقت چودھویں صدی میں صرف حج کے اسلحہ سے اسلام سے جنگ شروع ہو گئی اسلام کے باعث کوئی قوم کسی مسلمان پر ہتھیاروں سے اب کام نہیں لیتی ۔ تو اسلام نے بھی براہین نیرہ اور حج ساطعہ اور دلائل واضحہ ( ترک رشی ) سے مقابلہ شروع کیا! بت پرست قو میں اسلام کے مقابلہ سے ہار کر بت پرستی کے دعوی سے باز آ رہی ہیں اور بالکل اس مسئلہ میں صلح جو ہو رہی ہیں ۔ کیونکہ انڈیا میں کچھ برہموں ہو گئے ہیں اور کچھ آریہ سماج ۔ ادھر یورپ و امریکہ میں یونی ٹیرین۔ فری تھنکروں کا سمندرموج مار رہا ہے۔ اور کیا خوب ہوا ۔ حضرت مسیح کی خدائی نیست و نابود ہو رہی ہے ۔۔۔ مخلوق اسلام کے مقدس مذہب میں آ رہی ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۴-۱۸۵) جو دنیا میں نیکی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ مشکلات بھی ہیں اور سکھ کے ساتھ دکھ اور دکھ کے ساتھ سکھ ہے۔ آخر الذکر کی مثال دروزہ اور پھر فرزند نرینہ کی پیدائش ہے۔ صحابہ کرام مکہ معظمہ میں سخت تکالیف میں مبتلا تھے۔ (۱) بعض آدمیوں کے ایک پاؤں کو FRE THINKERS