حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 115

حقائق الفرقان ۱۱۵ سُوْرَةُ الْحَجِّ تفسیر۔ اور پکار دے لوگوں میں میں حج کے واسطے کہ آویں تیرے پاس پیدل اور سوار دبلے دبلے اونٹوں پر چلتے آتے راہوں دور سے کہ پہنچیں اپنے بھلے کی جگہوں پر ۔ - ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب ۔ حصہ اول صفحہ ۴۱ حاشیہ ) ۲۹ - لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَت عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ترجمہ ۔ تاکہ حاضر ہو جاویں اپنے فائدوں کے لئے اور اللہ کا نام لیں چند معلوم وقتوں میں ان مویشیوں چوپایوں کے ذبح کرنے پر جو اللہ نے ان کو دی ہیں تو اس میں سے کھاؤ اور کھلاؤ مصیبت زدہ محتاجوں کو ۔ تفسیر - مَنَافِعَ لَهُمْ - حج کے منافع عجیب در عجیب ہیں ۔ انسان جب اپنے وطن میں رہتا ہے تو بوجہ محبت ، وطن چھوڑ نہیں سکتا۔ مگر جو قو میں گھروں کے چھوڑنے کی عادی ہیں وہ بہت ہی نفع میں رہیں ۔ ہمارے امراء بہت سست ہیں۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ صفحه ۱۷۴) وضعداری ہمارے ملک میں بہت ہی رائج ہے۔ اس کے توڑنے کیلئے حج ہے۔ جس میں ایسی وضع داریاں خاک میں مل جاتی ہیں ۔ پھر بڑا نفع تو یہ ہے کہ لاکھوں آدمی جب مل کر دعا کرتے ہیں تو ضرور مقبول ہوتی ہے اور اس وقت خصوصیت سے ایک جوش اٹھتا ہے۔ کوئی مدبر، کوئی حکیم، کوئی فلسفی، کوئی موجد کوئی عالم دنیا کے کسی حصے میں پیدا ہو ۔ وہاں ضرور خبر ہو جاتی ہے کیونکہ تمام ممالک کی مخلوق کا کوئی نہ کوئی نمونہ وہاں موجود ہوتا ہے۔ میں نے مکہ میں ایک بزرگ دیکھے کہ وہ جلد جلد عربی میں بات کرتے مگر ان کی کوئی کتاب ہے علم حدیث سے باہر کی نہ ہوتی ۔ ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ مطلب نہیں کہ مکہ میں منافع ہی منافع ہیں ۔ نقصان بھی ہو جاتے ہیں ۔ مگر زیادہ منافع ہیں ۔ ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۴ مورخه ۱۶ جون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۵) لے سہو کا تب ہے۔ اصل میں ہے۔ ان کی کوئی بات ۔۔۔۔۔۔۔