حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 109
حقائق الفرقان ۱۰۹ سُوْرَةُ الْحَجَّ ج ١٢ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرُ إِطْمَانَ بِهِ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ إِنْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۔ ترجمہ ۔ اور آدمیوں میں سے بعض آدمی ایسا ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارہ پر دور دور پھر اگر اس کو نعمت مل گئی تو مطمئن ہو گیا اس سے اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑی تو الٹا پھر گیا اپنے منہ پر نتیجہ یہ کہ اس کی دین دنیا دونوں ٹوٹوں میں آئیں اور یہی بہت بڑا گھاٹا ہے۔ تفسیر۔ مکہ میں صریح دشمن موجود تھا اور مدینہ طیبہ میں بھی کئی قسم کے دشمن موجود تھے۔ تین یہودیوں کے، دو مشرکوں کے ، ایک عیسائیوں کا ، ساتواں گروہ منافقوں کا۔ یہ سورۃ میرے نزدیک مدنی ہے۔ اور اس میں مخاطب مکہ والے بھی ہیں ۔ اس میں فتح مکہ کا اشارہ ہے اور انذار ہے سب مخالفین کو ۔ پہلے رکوع میں صریح دشمن مخالف تھے۔ دوسرے رکوع میں منافقوں سے خطاب ہے۔ عَلَى حَرْفٍ ۔ مومن وہ ہے جو خوشحالی و تنگ حالی میں خدا کی قضاء پر راضی رہے۔ فَإِنْ أَصَابَه ۔۔۔ الخ ۔ یہ طریق منافقوں کا ہے۔ خَيْرٌ - آرام ۔ بھلائی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ صفحه ۱۷۴) ۱۴ - يَدْعُوا لَمَنْ ضَرَّةَ اَقْرَبُ مِنْ نَفْعِهِ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ - ترجمہ ۔ ایسے کو پکارتا ہے جس کے نفع سے ضرر زیادہ ہے، کچھ شک نہیں کہ مولی بھی بڑا ہے اور رفیق بھی برا ہے۔ تفسير - لَمَنْ ضَرَّة اَقْرَبُ - رامپور میں ۔ ایک شخص اپنے آقا کی خدمت کرتا اور کہتا ۔ خدا اور نمازیں بھی دیکھ لیں۔ جو کچھ ہے یہی ہے۔ ایک ماہ خدمت کر چکا۔ ابھی تنخواہ نہ پائی تھی کہ وہ یکدم مقتل کیا گیا۔ اس وقت اسے معلوم ہوا کہ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ (یونس : ۶۷) کا کیا ضر ر ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۴) ے جو لوگ اللہ کے سواشریکوں کو پکارتے ہیں ۔