حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 99
حقائق الفرقان ۹۹ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ ۸۲- وَلِسُلَيْمَنَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِى بِأَمْرِةَ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَرَكْنَا فِيهَا وَ كُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِمِينَ - ترجمہ ۔ اور ہم نے سلیمان کے تابع کر دی زور کی ہوا جو ہمارے حکم سے چلتی زمین شام کی طرف جس میں ہم نے برکتیں رکھیں ہیں اور ہم کو سب ہی چیزوں کا علم ہے۔ تفسير - الريح ۔ ہوا کے جہاز ان کے ماتحت چلتے۔ بامرہ ۔ آپ کے حکم سے گویا چلتے ۔ بركنا فيها - خلیج فارس کے جہاز ہندوستان کی چیزیں شام تک لے جاتے۔ یورپ اور افریقہ کے اسباب بحیرہ روم کے ذریعے پہونچتے۔ جبش ۔ شمالی لینڈ ۔ یمن اور جزائر کی چیزیں بحیرہ قلزم کے ذریعہ پہونچتی تھیں غرض تین طرف سے بحری سفر ہوتا (۱) خلیج فارس (۲) ۔ بحیرہ روم (۳) ۔ بحیرہ قلزم ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۲) وَمِنَ الشَّيْطِينِ مَنْ يَخُوصُونَ لَهُ وَ يَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَلِكَ وَكُنَّا لَهُمْ حَفِظِينَ - ترجمہ ۔ اور شریر سرکش لوگ ہم نے سلیمان کے تابع کر دیئے تھے جو غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا اور بھی کام کرتے تھے اور ہمیں ان کے محافظ تھے۔ تفسیر - الشَّيْطين - شَطَنُ البشر - یہ کنواں بڑا گہرا ہے۔ گہرے کنوئیں کو شکن کہتے ہیں۔ شاید تم نے نظارے نہیں دیکھے۔ جو غوطے لگاتے ہیں ۔ سیپیاں لاتے ہیں ۔ دور سے ہوتے ہیں۔ دیر تک اس کے نیچے رہتے ہیں ۔ صبح سے لے کر نصف النهار تک غوطہ لگا سکتے ہیں ۔ ہیں۔ انہی کو شیاطین کہا گیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ صفحه ۱۷۳) وَ مِنَ الشَّيْطين - دور دور کے لوگ ۔ ( تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۶۷) مَنْ يَغُوصُونَ لَہ ۔ سلیمان کے قبضے میں خلیج فارس تھی۔ تم نے سنا ہوگا کہ وہاں موتی نکلتے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ صفحه (۱۷۲)