حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 92
حقائق الفرقان ۹۲ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ تفسیر ۔ قَالُوا حَدِقُوهُ - حضرت ابراہیم جس شہر میں پکڑے گئے تھے اس کا نام اور تھا۔ پشتو میں اب تک اور آگ کو کہتے ہیں ۔ اس شہر میں آتشکدہ تھا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ صفحه ۱۷۲) ( اس سوال کے جواب میں کہ ) ابراہیم کے لئے آگ سرد ہوئی۔ پھول کھل پڑے۔ چشمے جاری ہو گئے۔ لیٹیمر کر نیمر کے لئے کیوں سرد نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ (فرمایا)۔ پھول کھلے۔ چشمے جاری ہوئے ۔ قرآن کریم میں تو نہیں مگر یہ تو بتاؤ کہ تمہارے یہاں کی متواتر کہانی پہلاد کی کیا بتاتی ہے؟ متواتر کا منکر احمق اور ضدی ہوتا ہے اور اگر اس کے منکر ہو تو منوجی اور بھرگ سنگتا میں کیا لکھا ہے۔ اسے پڑھو۔ دیکھو اس کا ادھیا ۸ شلوک ۱۱۶ ۔ اگلے زمانہ میں تبش رش کے چھوٹے بھائی نے ان کو عیب لگا یا اور تبش رش نے اپنی صفائی کے واسطے آگ کو اٹھایا لیکن تمام دنیا کے عمل نیک و بد جاننے والے اگن نے رش کا ایک بال بھی نہ جلایا کیا تم اب اپنی کسی نیکی پر اگنی کو اٹھا سکتے ہو یا اس شلوک کو غلط قرار دیتے ہو یا اس کی کوئی تاویل کرتے ہو یا یہ قول منو کا وید کے کسی شلوک کے خلاف سمجھ کر رد کرتے ہو؟ اصل بات قرآن کریم میں اس قدر ہے۔ قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا الهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ - قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ - وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَخْسَرِينَ - وَنَجَّيْنَهُ وَلُوْطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَرَكْنَا فِيهَا لِلْعَلَمِينَ ۔ (الانبياء: ۶۹ تا ۷۲) ۔ انہوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر کچھ کرنا ہے۔ ہم نے کہا اے آگ ! تو ابراہیم پر سرد اور سلامتی ہو جا۔ انہوں نے ابراہیم سے جنگ کرنی اور خفیہ تدابیر سے انہیں ایذا دینی چاہی مگر ہم نے انہیں زیاں کا ر کیا اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو مبارک زمین میں پہنچایا۔ اور دوسری جگہ ہے۔ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهَ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجُهُ اللهُ مِنَ النَّارِ (العنكبوت : ۲۵)