حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 79

حقائق الفرقان ۷۹ سُورَةُ التَّوْبَة پر نہ آنکھ پر نہ زبان پر غرض اپنے جسم کے کسی حصہ اور اعضاء پر اپنا اب کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور نہ رہنا چاہیے کیونکہ جب ہم روز مرہ اپنے تجربہ میں اس امر کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی چیز کسی سے خریدتے ہیں تو خریدنے کے ساتھ ہی بیچنے والے کا اپنا کوئی اختیار اور تصرف اس پر نہیں رہتا۔ پس جب ہم نے ایمان کا دعویٰ کیا اور مومن بنے تو اس کے ساتھ ہی اپنا جان و مال خدا کے ہاتھ بیچ ڈالا تو اب اس پر ہمارا اپنا تصرف کیسا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن کو اگر اپنی جان تک دینے کی بھی نوبت آجائے تو اسے دریغ نہیں اس لئے کہ وہ اس پر اپنا اختیار ہی نہیں رکھتا وہ تو اسے دے چکا یہاں تک کہ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَ يقْتَلُونَ (التوبة: 11 ) ۔ اگر یہ موقع بھی ان کو پیش آجائے کہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو ان سے لڑتے ہیں لڑنا پڑے تو وہ ہر گز نہیں جھجکتے۔ یہ وعدہ حق ہے۔ اس کا پتا توریت اور انجیل سے بھی ملتا ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے اور یہ تو بتاؤ کہ اللہ تعالی سے بڑھ کر کون وفادار اور صادق الوعد ہو سکتا ہے۔ پس جب کہ یہ بات ہے تو پھر تم اپنی اسی بیچ پر خوش ہو جاؤ اور یہی تو وہ اعلیٰ درجہ کی کامیابی ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۱، ۱۲) ١١٢ - التَّابِبُونَ الْعَبدُونَ الْحَمدُونَ السَّابِحُونَ الرَّكِعُونَ السُّجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحَفِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ترجمہ ۔ رجوع بحق کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے، کوشش کرنے والے، سفر کرنے والے ( یعنی مجاہد اور صالح ) ، جھکنے والے، فرمانبرداری کرنے والے، نیک کاموں کا حکم دینے والے، بڑے کاموں سے روکنے والے، اللہ کی حد بندیوں کی حفاظت کرنے والے ، یہی لوگ ہیں ( اچھے ) اور خوشخبری سنا دو ایمانداروں کو۔ لے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔