حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 76
حقائق الفرقان ۷۶ سُورَةُ التَّوْبَة قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو نیکی ہی کا ارادہ کیا اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بڑے جھوٹے ہیں۔ تفسیر - اتَّخَذُوا ۔ اس کا مفعول مَسْجِدا ہے، اور ضِرارا کا فعل اتَّخَذُوا مخدوف کر دیا ہے یعنی اتَّخَذُوا ضِرَارًا - لِمَنْ حَارَبَ الله - یہ ابو عامر کی طرف اشارہ ہے جو عیسائی تھا۔ اس کے مکروں سے ایک مکر یہ بھی تھا کہ رسول کریم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔ پھر کچھ مسلمان ادھر بھی آجایا کریں گے اور اسی طرح مسلمانوں کی جماعت کو توڑلوں گا۔ اس ابو عامر نے اپنا ایک رویا بھی مشتہر کر رکھا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم وَحِيدًا طرید ا شریدا فوت ہوں گے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ کہ خواب سچا ہے۔ اس نے اپنی حالت دیکھی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ نام نہ لینے میں یہ بلاغت ہے کہ آئندہ بھی اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کا انجام بھی یہی ہوگا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۱۸) ۱۰۹ - أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ - ترجمہ ۔ بھلا جس نے پایہ ڈالا اپنی عمارت کا تقویٰ پر اللہ ہی کے لئے اور اُسی کی خوشی کے واسطے وہ بہتر ہے یا وہ جس نے پایہ رکھا اپنی عمارت کا گرنے والے گڑھے کے کنارے کہ وہ اسے بھی لے گرے جہنم کی آگ میں اور بے جا کام کرنے والے جس راہ پر چلتے ہیں وہ اللہ کی بتائی ہوئی نہیں ۔ تفسیر - شفا - کناره جرف ۔ کھوکھلا ، کھایا ہوا ۔ فِي نَارِ جَهَنَّمَ - دریا کا کنارہ تو پانی میں گرتا ہے مگر یہ نفاق کا کنارہ جہنم میں گرے گا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۸) اے تنہا ، دھتکارہ ہوا ، آوارہ (نعوذ باللہ )