حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 65
حقائق الفرقان ۶۵ سُورَةُ التَّوْبَة تو کیا خدا تعالی ساری قوم کا بیڑہ غرق کر دے گا ؟ ہر گز نہیں ۔ پس تم کان کھول کر سنو ۔ اگر اب اس معاہدہ کے خلاف کرو گے تو فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ کے مصداق بنو گے۔ میں نے تمہیں یہ کیوں سنایا۔ اس لئے کہ تم میں بعض نافہم ہیں جو بار بار کمزوریاں دکھاتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ سے بڑھ کر جانتے ہیں۔ البدر جلد ۸ نمبر ۵۲ مورخه ۲۱ اکتوبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱) یا درکھو ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کے محروم ہونے کی ایک یہ بھی وجہ ہوتی ہے کہ وہ بعض اوقات الله اللہ تعالیٰ سے کچھ وعدے کرتا ہے لیکن جب ان وعدوں کے ایفاء کا وقت آتا ہے تو ایفاء نہیں کرتا۔ ایسا شخص منافق مرتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُ وہ اس سے ہمیشہ بچتے رہو۔ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اس وقت وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا ملجا و ماوی تصور کرتا ہے اور فی الحقیقت وہی حقیقی پناہ ہے۔ اس وقت وہ اس سے وعدے کرتا ہے۔ پس تم پر مشکلات آئیں گی اور آتی ہیں ۔ تم بہت وعدے خدا تعالیٰ سے نہ کرو۔ اور کرو تو ایفاء کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ایفاء نہ کرنے کا وبال تم پر آئے اور الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ مئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۵ ) خاتمہ نفاق پر ہو۔ فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا اَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُ وهُ وَ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (التوبة: ٧) ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدوں کے خلاف کرنے اور جھوٹ بولنے کے سبب ان کے دلوں میں نفاق پڑ گیا اس دن تک کہ وہ اللہ کے حضور میں حاضر ہوں ۔ ( بدر جلد ۱۴ نمبر ۲۰ مورخه ۲۷ نومبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۳) دوسری بات جو کہ انسانی ترقی کی سد راہ ہوتی ہے وہ اس کا نفاق ہے کہ جب کوئی دکھ ہوتا ہے تو خدا سے لمبے چوڑے وعدے کرتا ہے کہ اگر یہ دکھ مجھے سے دور ہو جاوے تو میں فلاں فلاں کام کروں گا۔ تیری عبادت کروں گا۔ صدقہ دوں گا ۔ دین کی خدمت کروں گا وغیرہ وغیرہ اور ایسے مواقع لوگوں کو بے روزگاری، تنگی معاش، کمی تنخواہ، اپنی اور بال بچوں کی بیماری وغیرہ میں پیش آتے ہیں۔ لیکن جب مشکل کا پہاڑ ٹل جاتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ کہ منافق ہو کر مرتے