حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 62 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 62

حقائق الفرقان ۶۲ سُورَةُ التَّوْبَة یہ جو کہتے ہیں کہ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ کے ماتحت منافقوں سے کیوں جہاد نہیں کیا گیا۔ یہ غلط ہے کیونکہ منافقوں سے لڑائی ہوئی چنانچہ قُتِلُوا تَقْتِيلًا (الاحزاب : ۲۲) سے ظاہر ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۱۷) جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ - کوئی صحابی منافق نہ تھا ۔ اگر ہوتا تو نبی کریم ضرور اس سے تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۸) جنگ کرتے ۔ ۷۴- يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا وَ لَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنُهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِن يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ وَإِنْ يَتَوَلَّوا يُعَذِّبُهُمُ اللَّهُ عَذَابًا الِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرٍ - ترجمہ ۔ وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انہوں نے کلمہ کفر نہیں بولا حالانکہ انہوں نے بے شک کلمہ کفر بولا اور مرتد ہو گئے اسلام کے بعد اور ارادہ کر لیا اس کا جس کو نہ پایا اور یہ برا بدلہ نہیں دیتے مگر اس بات کا کہ ان کو غنی کر دیا ہے اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے ، تو اگر وہ رجوع بحق کر لیں تو وہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ نہ مانیں گے اور منہ پھیر لیں گے تو اللہ ان کوٹیس دینے والا عذاب دے گا دنیا ہی میں اور آخرت میں بھی اور ملک میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہوگا۔ تفسیر يَحْلِفُونَ بِاللهِ - چونکہ ان میں قوت فیصلہ اور تاب مقام مقابلہ نہیں ہوتی اس لئے وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ۔ - وَهَمُوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا - شیعہ غور کریں جو کہتے ہیں ۔ حضرت علی نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے کامیاب کامیاب : نہ ہوئے۔ بعد بلا فصل خلیفہ بنا چاہا یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اس طرح حضرت علیؓ اپنے مقصد میں کام عَذَابًا أَلِيمًا - ديكھو سورة الاحزاب لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا (الاحزاب: ۶۱) یہ دنیا کا عذاب منافقوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہو چکا ۔ مَنْعُونِينَ ے اچھی طرح قتل کئے جائیں ۔ ہے۔ ہم تجھ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے تو وہ مدینہ میں تیرے پڑوی نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے ہی دن ۔