حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 61
حقائق الفرقان ٦١ سُورَةُ التَّوْبَة گئی ہے۔ خدا کی بڑی بڑی عظیم الشان طاقتیں ہیں جو وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتی ہیں ۔ ایک آن میں لاکھوں لاکھ پیدا کر سکتا ہے اور فنا کر سکتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۵،۱۴) ۷۳- يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَا وَلَهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْبَصِيرُ - ترجمہ ۔ اے نبی ! بڑی محنت کرو ان کافروں کے لئے اور بڑی ہی کوشش کرو منافقوں کے واسطے اور بڑی زبردست توجہ ساز بر دست قوت سے مجاہدہ کرو۔ ان کا ٹھکانا تو جہنم ہی ہو رہا ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ تفسیر مثنوی میں ایک بات لکھی ہے گئے اور چاولوں کو بہت پانی دیا جاتا ہے۔ پانی میں تمام بیجوں کا مادہ ہوتا ہے اس لئے کچھ اور گھاس وغیرہ بھی اس میں اُگ آتی ہے۔ اس کو بذریعہ نہلائی کے دور کیا جاتا ہے اسی طرح منافقین کو مومنین سے الگ کیا جاتا ہے اور اس کے لئے بڑے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ رذائل تو انسان میں پہلے آتے ہیں ۔ ان کے دور کرنے کے لئے بڑا مجاہدہ چاہیے ۔ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ - عَلَيْهِمْ کی ضمیر کے مرجع پر لوگوں نے بحث کی ہے۔ بعض دونوں کی طرف پھیرتے ہیں ۔ بعض صرف منافقین کی طرف۔ میرے نزدیک دونوں کی طرف ہے کیونکہ دوسری جگہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح : ۳۰) آیا ہے جس کے معنی حضرت صاحب نے یہ کئے ہیں کہ کفار کی بات تم پر اثر نہ کرے۔ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ - عَلَى أَكْمَةٍ غَلِيظَة ۔ اس کے معنے مضبوطی کے ہیں۔ وَ مَا وَلَهُمْ جَهَنَّمُ - جہنم عقائد فاسدہ کے جلانے کی بھٹی ہے۔ اس سے بچاؤ ہوتا ہے بذریعہ توبہ استغفار ، صدقہ، دوسرے سے دعا کرانا ، مصائب کا آنا ، قبر کے مشکلات ، مرنے کے بعد لوگوں کا جنازہ پڑھنا اور ان کو ثواب پہنچتا ہے کھانے کا ، روزے کا اور میرے نزدیک کلام الہی کا بھی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۱ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۶)