حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 42
حقائق الفرقان ۴۲ سُورَةُ التَّوْبَة حصہ لیا۔ اسی لئے ہاں وجود باجود کے طفیل پھر رحمت الہی ان لوگوں کی ممد و معاون ہوئی ۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول - صفحه ۱۴۹،۱۴۸) ٢٦ - ثُمَّ انْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَ اَنْزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ - ترجمہ ۔ پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے تسکین اپنے رسول اور ایمان داروں پر اور وہ فوجیں اتاریں جو تم نے نہیں دیکھیں اور سخت دکھ دیا منکروں کو۔ اور ہاں یہی تو سزا ہے کافروں کی ۔ تفسیر ۔ عَلی رَسُولِہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خچر کی باگ ان سو تیر زنوں کی طرف پھیر دی اور کہا ۔ انا النبيُّ لا كَذِب (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۱ نومبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۱۴) جن لوگوں کو حضرت نبی کریم کی اتباع اور معیت کا شرف بخشا اور چاہا کہ انہیں دنیا پر حق کو پھیلانے کا آلہ اور ذریعہ بنائے ۔ ان پر یہ فضل کیا کہ ان میں اخلاص ، وحدت ، خدا ترسی ،شجاعت، عفت، صلح ، خودداری ، استقلال اور توجہ الی اللہ کی قوت بڑھتی جاتی تھی اور ان کے مخالفوں میں نفاق، غرور، کبر ، تهور، جین فسق، فجور ، غضب، عجز وکسل اور غفلت ترقی پر تھی۔ اس روحانی لعنت کے قبضہ میں ہو کر اگر چہ وہ لوگ ان برگزیدوں کے مقابل اپنی ساری طاقتوں اور مال اور جان کو خرچ کرتے مگر نامراد اور ناکام رہ جاتے اس قصہ کو اب ہم لمبا نہیں کرتے ۔ اصل بات سناتے ہیں ۔عرب میں ان دنوں میں جنگ کا یہ دستور تھا کہ پہلے مبارزہ ہوا کرتا تھا۔ یعنی ایک آدمی دوسرے کے مقابل نکلتا۔ پھر مبارزہ کے بعد تیروں سے جنگ کی ابتدا ہوتی تھی ۔ اور قاعدہ ہے کہ اگر ایسی جنگ کے وقت تیز ہوا چل پڑے۔ تو اس وقت جس لڑنے والی فوج کی پیٹھ کی طرف سے ہوا آئے گی۔ اس کی آنکھوں کو کچھ حرج نہیں پہنچے گا۔ اور ان لوگوں کے تیروں کو مدد دے گی ۔ مگر جس فوج کے سامنے ہوا کا دھکا ہوگا۔ ان کی آنکھوں میں ریتا پڑے گا۔ نہ وہ ٹھیک نشانہ لگا سکیں گے اور نہ مقابل کو اچھی طرح دیکھ سکیں گے۔ ایسی باتیں بہت جنگوں میں ہمارے نبی کریم کے عہد سعادت مہد میں پیش آئیں ۔ چنانچہ بدر لے میں نبی ہوں ( یہ ) جھوٹ نہیں ۔